وزیراعلیٰ کا گوادر پانی بحران کے حل کیلئے اعلیٰ سطحی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اعلان


گوادر(قدرت روزنامہ)گوادر میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے فوری حل کے لیے آج وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں گوادر کے پانی کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔کمیٹی کی سربراہی چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ کو سونپی گئی ہے، جبکہ ممبران میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خاں، ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمن، ایکسیئن پبلک ہیلتھ مومن علی محکمہ آبپاشی اور کیسکو کے نمائندگان شامل ہیں۔کمیٹی نے فوری طور پر اپنا کام شروع کر دیا ہے۔اسی سلسلے میں کوآرڈینیشن کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی آج جی ڈی اے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں شادی کور ڈیم کو فوری طور پر آپریشنل کرنے، گوادر پورٹ کے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو اس کی مکمل گنجائش کے مطابق فعال کرنے اور پانی کے دیگر متبادل ذرائع کا جائزہ لینے جیسے اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جی ڈی اے کی نئی بناء گئی کوہ بن وارڈ میں دو لاکھ گیلن پانی کے گنجائش کیاسٹوریج ٹینک اور نئے بچھائی گئی پائپ لائن کے ذریعے شہر کے جنوبی علاقوں، بالخصوص ملا بند میں پانی کی فراہمی کا فوری آغاز کیا جائے گا، جس پر آئندہ چند روز میں عملی کام شروع کر دیا جائے گا۔کمیٹی نے جی ڈی اے کے کوہ بن میں واقع دو لاکھ گیلن گنجائش کے نئے واٹر اسٹوریج ٹینک کا بھی معائنہ کیا اور اسے فوری طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔اس ٹینک کو گوادر پورٹ کے ڈی سیلینیشن پلانٹ سے ابتدائی طور پر روزانہ 6 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جائے گا، جو جی ڈی اے کے جدید پائپ لائن سسٹم کے ذریعے متعلقہ آبادیوں تک پہنچایا جائے گا۔ ساتھ ہی اگلے چند دنوں میں گھریلو کنکشنز کی تنصیب کا کام بھی شروع کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو جلد از جلد پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔اجلاس میں تحصیل سنٹسر میں موجود بورنگ سسٹم کی گنجائش بڑھانے، مزید دو نئے ٹیوب ویلز کی تنصیب، اور انہیں جیونی و دیگر قریبی آبادیوں سے منسلک کرنے کے فیصلے بھی کیے گئے۔علاوہ ازیں، سوڈیم سے پانی کی فراہمی کو مؤثر بنانے اور شہر میں تقسیم آب کے نظام کو جدید، منظم اور شفاف بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert