فحاشی اور عریانی کے مقابلے! کیا واقعی پاکستان میں ٹک ٹاک بند ہونے والا ہے؟

لاہور(قدرت روزنامہ)پنجاب اسمبلی میں سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر مستقل پابندی عائد کرنے کے لیے ایک قرارداد جمع کرا دی گئی،اسمبلی ذرائع کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن رکن فرخ جاوید نے پیش کی۔
قرارداد کے متن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کی نام نہادمافیا فحاشی اور عریانی کو فروغ دے رہی ہے، خاص طور پر اس کا لائیو چیٹ فیچر نوجوانوں کو نامناسب گفتگو اور غیر اخلاقی رویوں کی طرف مائل کر رہا ہے۔
A resolution was presented in the Punjab Assembly, #Pakistan 🇵🇰 to impose a complete b@n on TikTok's live feature in Pakistan, saying that the platform promotes obs_cenity, has a negative impact on youth and undermines Islamic values. #TikTokLiveStreaming #tiktoklives pic.twitter.com/xpzgMOwmJl
— Kuwait Urdu News (@KuwaitUrduNews) September 14, 2025
قرارداد میں کہا گیا کہ کم عمر بچے بھی اس ایپ کے ذریعے غیر ضروری اور غیر اخلاقی میلانات کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ ٹک ٹاک نوجوان نسل کو سستی شہرت اور آسان پیسے کی طرف راغب کر کے انہیں اخلاقی زوال کی جانب دھکیل رہی ہے، جو اسلامی معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔
قرارداد میں زور دیا گیا کہ اس ایپ اور اس کے فیچر پر فوری اور مستقل پابندی لگائی جائے تاکہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا تحفظ کیا جا سکے۔
قرارداد نے صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت کو پابند کرے کہ ٹک ٹاک اور اس کا لائیو چیٹ آپشن ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو اخلاقی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
