مال مفت دل بے رحم! سندھ حکومت کا سولر انرجی منصوبے کے نام پر عوام کو کتنے ارب کا جھٹکا؟ سنسنی خیز انکشافات

کراچی(قدرت روزنامہ)پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
انگریزی اخبار دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے ایک غیر ملکی کمپنی سے ہر سولر کٹ کی قیمت 151 ڈالر ظاہر کی جبکہ اصل درآمدی قیمت 50 ڈالر سے بھی کم نکلی۔
یہ منصوبہ ورلڈ بینک کی 28 ارب روپے کی فنڈنگ سے شروع ہوا جس کے پہلے مرحلے میں 2 لاکھ گھروں کو سولر ہوم سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے درآمدی کاغذات میں سولر کٹ کی قیمت صرف 23اعشاریہ 4 ڈالر ظاہر کی، جو ظاہر کردہ قیمت سے پانچ گنا کم ہے۔ اسی طرح سولر ڈی سی فین کی درآمد بھی مشکوک نکلی، کیونکہ عوام میں تقسیم کیے جانے والے فین پاکستان میں تیار کیے گئے تھے، لیکن انہیں درآمدی ظاہر کر کے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کا دعویٰ کیا گیا۔
جیونیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ صرف پہلے مرحلے میں قیمتوں کے فرق اور مبینہ جعلی ٹیکس کلیمز کے باعث تقریباً 6اعشاریہ 5 ارب روپے کی بے ضابطگی ہوئی۔
پروگرام میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق 20 ہزار سے زائد سولر کٹس چین سے 23 ڈالر فی کٹ کے حساب سے درآمد ہوئیں، مگر حکومت کو ان کی قیمت 151 ڈالر فی کٹ ظاہر کی گئی۔
اسی دوران ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر بتایا کہ اس منصوبے کے کنٹریکٹ میں سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ کنٹریکٹ غیر شفاف انداز میں حکومتی کمپنی کی ذیلی شاخ کو دیا گیا اور بعد میں معاہدے کو مزید تبدیل کر دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک یونٹ کی قیمت 84 ڈالر کے بجائے 135 ڈالر دکھائی گئی۔ اس عمل سے مزید 6 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے پروگرام میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ منصوبے میں کوئی بے ضابطگی نہیں اور تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کی جائیں گی تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر انڈر انوائسنگ ہوئی ہے تو وہ پرائیویٹ کمپنی کی جانب سے کی گئی۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی مہم کے دوران اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت غریب اور بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ خاندانوں کو سولر ہوم سسٹم دیے جا رہے ہیں، جن میں ایک سولر پینل، بیٹری، ڈی سی فین، تین ایل ای ڈی بلب اور موبائل چارجنگ کی سہولت شامل ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں بھی منصوبے میں شفافیت، تاخیر اور تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے تھے، جن پر انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی لیکن اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے ہیں جب سندھ حکومت منصوبے کو اپنا فلیگ شپ پروگرام قرار دے رہی ہے، مگر مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور جعلی درآمدی دستاویزات نے اس کے مستقبل پر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
