آپریشن یا بمباری نہیں ہونے دونگا!” وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خیبر امن جرگے میں پھٹ پڑے، بند کمروں کے فیصلے مسترد

خیبر(ڈیلی قدرت نیوز) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع خیبر میں منعقدہ امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ صوبے میں کسی قسم کے فوجی آپریشن، طیاروں سے بمباری یا بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا اور اگر عوام نے فیصلہ نہ کیا تو وہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔

ہفتے کے روز ضلع خیبر میں منعقدہ بڑے امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی انتہائی جذباتی اور غصے میں نظر آئے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز انقلابی شاعری سے کیا اور کہا کہ قبائلی اضلاع نے پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اپنے گھر بار چھوڑے، ڈرون حملے اور بمباریاں برداشت کیں، لیکن ان قربانیوں کا صلہ نہیں ملا انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قبائلی عوام صرف قربانی کا بکرا بننے کے لیے رہ گئے ہیں؟

وزیراعلیٰ نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا، “میں طیاروں سے بمباری نہیں ہونے دونگا، فوجی آپریشن نامنظور! فیصلہ عوام کرینگے! بند کمروں کے فیصلے نامنظور!”۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوگا اور اگر کسی نے عوام کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو وہ اس کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

جرگے کے دوران عوام نے بھی اپنے مطالبات پیش کیے جن میں سب سے نمایاں مطالبہ “عمران خان کو رہا کرو” تھا۔ شرکاء نے “حق دو، خیرات نہیں” کے نعرے بھی لگائے۔ وزیراعلیٰ نے عوام کے مطالبات کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ امن کا قیام حقوق دینے سے ہوگا اور سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو رہا کرنا ہوگا۔

سہیل آفریدی نے قبائلی اضلاع کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی پر بھی وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

انہوں نے خبردار کیا کہ وہ اپنے عوام پر مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے اور کسی بھی معصوم شہری کو “کولیٹرل ڈیمیج” کے نام پر قربان نہیں ہونے دیں گے۔

وزیراعلیٰ کی تقریر نے جرگے کے شرکاء میں شدید جوش و خروش پیدا کردیا اور ان کے سخت موقف کو خوب سراہا گیا۔
