سہیل آفریدی کو جس مقصد کے لیے لایا گیا ہے اس سے قبل ہی فارغ ہو جائیں گے، طلال چوہدری کا دعویٰ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ’بے بی سی ایم‘ قرار دے دیا، کہا یہ جس کام کے لیے آئے ہیں، اس سے پہلے فارغ ہوجائیں گے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ سہیل آفریدی کو جان بوجھ کر ’بے بی سی ایم‘ کے طور پر صوبے میں بٹھایا گیا ہے تاکہ ان کی اپنی سمجھ بوجھ نہ ہو، وہ سیل سے چلے یا چابی سے، بس بانی بانی کرتا رہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ بانی اپنی جگہ ہوگا، صوبے کے 4 کروڑ عوام کے فیصلے وزیراعلیٰ نے کرنے ہیں۔ صحت، تعلیم کے حوالے سے کچھ کریں۔ سہیل آفریدی کو 2 ہفتے ہوئے وزیراعلیٰ بنے ہوئے، کوئی مجھے یہ بتائے کہ انہوں نے کسی جگہ کہا ہو کہ وہ اس صوبے کو یہ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی جس کام کے لیے آئے ہیں اس سے پہلے فارغ ہوجائیں گے، یہ اکیلا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کو بھی ساتھ لے جائے گا۔ پنجاب میں کچھ بھی ہوتا ہے تو مریم نواز سے پوچھا جاتا ہے، کیا کبھی خیبرپختونخوا میں کسی نے وزیراعلیٰ سے پوچھا ہے کہ اس نے عوام کے لیے کیا کیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالت میں درخواست دے رکھی ہے۔ عمران خان ایسے قیدی ہیں جنہوں نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ملاقاتیں کی ہیں۔ عدالت نے جیل مینوئل کے تحت ملاقات کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے جب عمران خان سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں تو ان کے بڑے مطالبات ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں عمران خان لان میں بیٹھا ہو، ملاقات کا کوئی وقت نہ ہو بلکہ لمبی ملاقات ہو، ان کے پاس چائے نہیں، کافی ہونی چاہیے، ہم نے آم نہیں امرود کھانے ہیں۔
’آپ ماموں سے ملنے تو نہیں جارہے، آپ جیل میں ملاقات کرنے جارہے ہیں، جیل مینوئل کے تحت ملاقات ہوگی۔‘
کیا عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کیا جاسکتا ہے یا ایسی کوئی تجویز ہے؟ اس سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے کہا کہ ایسی باتیں پی ٹی آئی کی جانب سے پھیلائی جاتی ہیں، وہاں سے ماحول بنایا جاتا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے بھی پچھلے دنوں یہ کہا تھا کہ پی ٹی آئی کوئی ایک بندہ بتا دے جس نے یہ ڈیل آفر کی ہو، ڈیل پی ٹی آئی والے خود لے کر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اب پھر ڈیل بنارہے ہیں کہ وہ افغانستان کے ساتھ امن کروائیں گے۔ افغانستان کا مسئلہ تو کچھ ہے ہی نہیں، یہ مسئلہ انہوں نے خود پیدا کیا ورنہ یہ کبھی پیدا نہ ہوتا۔ یہ ریاست کو بلیک میل کرکے ڈیل بنانے کی کوشش میں ہیں۔
کیا خیرسگالی کے تحت عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کس بات کی خیرسگالی، کیا انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے؟ عمران خان درخواست دیں کہ انہیں فلاں جگہ شفٹ کیا جائے، اس پر غور کریں گے۔
’سب کے سامنے کہیں کہ ہمیں بنی گالہ شفٹ کردیں، ہمیں نتھیا گلی شفٹ کردیں، یہ لکھ کر دیں، بلیک اینڈ وائٹ میں بات ہوگی۔‘

WhatsApp
Get Alert