فرعونی سیاست سے جمہور کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، حکمرانوں کو آئین کی پاسداری کرنا ہوگی، محمود اچکزئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی، پارلیمانی حکمرانی اور فوج و خفیہ اداروں کی سیاست میں مداخلت بند کیے بغیر پاکستان بحران سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صحافی ارشد شریف کی یوم شہادت کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حکمرانوں کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھ لیا اور آئینی بازگشت کو بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکمران فرعونوں جیسے غرور میں مبتلا ہیں جو طاقت کو چمکا کر رکھنا چاہتے ہیں اور آئین و جمہوری حقوق کو دبانے کے ذریعے عوامی آواز کو خفه کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ کو “ربڑ اسٹیمپ” بنادیا گیا جبکہ عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
اپنے جذباتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ آئین ایک سماجی معاہدہ (سوشل کنٹریکٹ) ہے اور قوموں کی شمولیت و حقوق کے تحفظ کے بغیر ملکی وحدت ممکن نہیں۔ انہوں نے وکلاء، صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف متحد ہوں اور آئین کی بالادستی کے لیے موقف اپنائیں۔
محمود خان نے تاریخ اور ذاتی حوالوں کے ذریعے کہا کہ ان کے والد مرحوم عبدالصمد خان اچکزئی کی صحافتی و سیاسی جدوجہد اور ارشد شریف کی شہادت ایک جیسی قربانیوں کی عکاس ہے، اور حق و باطل کی جنگ ہمیشہ جاری رہے گی جس میں سچائی کی راہ میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج اور خفیہ اداروں کے کردار کی شفاف حدود ضروری ہیں اور آرمی چیف سمیت تمام عہدیداروں کو آئین کے تحت حلف کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر آئینی ضابطے نافذ نہ کیے گئے تو ملک میں جمہوری انتشار اور سماجی پھوٹ کا خطرہ ہے جسے روکا نہیں جا سکے گا۔
خطاب کے دوران محمود اچکزئی نے سیاسی جماعتوں خصوصاً نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کو اپیل کی کہ وہ چند بنیادی نکات پر مشترکہ ایجنڈا اختیار کریں تاکہ ملک کو آئینی و جمہوری راہ پر واپس لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمہوری اصول تسلیم نہ کیے گئے تو عوام کو سڑکوں پر آنا پڑے گا — جو کہ ایک انتہائی آخری راستہ ہے۔
محمود خان نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں کہیں بھی ظلم ہوا ہو اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار افسران و حکام کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آئین، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
تقریب میں کئی سیاسی رہنماؤں اور صحافی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی اور آخر میں مرنے والوں کی یاد میں خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
