خیبرپختونخوا لیبارٹری نہیں، بند کمروں کے فیصلے بند کیے جائیں سہیل آفریدی کی شدید تنقید
کسی کا فیصلہ آئین و قانون سے بالاتر ہو چکا ہے، ملاقات سے انکار عدالتی احکامات کی توہین ہے، سلمان اکرم راجہ

اڈیالہ جیل کے باہر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سلمان اکرم راجہ کی میڈیا ٹاک
راولپنڈی (قدرت روزنامہ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے آنے والے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو ایک بار پھر اڈیالہ جیل انتظامیہ نے ملنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔
جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ عدالتی حکم لے کر آئے ہیں لیکن انہیں مسلسل دوسرے ہفتے بھی ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔
کسی کا فیصلہ آئین سے بالاتر ہو گیا ہے‘: سلمان اکرم راجہ
سلمان اکرم راجہ نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں آئین، قانون اور عدالت کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ انہوں نے کہا، ’’اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں یہ طے پایا تھا کہ جیل انتظامیہ کو ایک لسٹ دی جائے گی جس پر میرے دستخط ہوں گے اور ملاقات کرائی جائے گی۔‘‘
انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’گزشتہ ہفتے بھی ہم عدالت سے سیدھا یہاں آئے تھے، میں نے لسٹ پر دستخط کیے لیکن وزیراعلیٰ کو کئی گھنٹے انتظار کے بعد بھی ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ اس کے بعد منگل کو بھی وزیراعلیٰ آئے اور انہیں دوبارہ انکار کر دیا گیا۔‘‘
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز (بدھ کو) 3 بج کر 45 منٹ پر لسٹ واٹس ایپ، ٹی سی ایس، اور ایڈووکیٹ خالد چوہدری کے ذریعے دستی طور پر بھی بھجوائی، لیکن آج جب وہ پہنچے تو ناکے پر موجود ایس ایچ او نے انہیں آگے جانے سے روک دیا اور ملاقات نہ ہونے کا عندیہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں کسی ایک شخص کا فیصلہ آئین، قانون اور عدالت سب سے بالاتر ہے۔ یہ جبر کا راج ہے جس کے خلاف ہم کھڑے ہیں۔ یہ وزیراعلیٰ اور خیبرپختونخوا کے عوام کا آئینی حق ہے کہ وہ اپنے لیڈر سے ہدایات لیں۔‘‘
خیبرپختونخوا کوئی لیبارٹری نہیں‘: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی احکامات کو مسلسل روندا جا رہا ہے اور اب وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اگر آئینی اور قانونی راستے بند ہو جائیں تو کیا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور وفاقی حکومت کو بھی خط لکھے، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی قیادت اب مل کر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔
میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے کے معاملات پر بھی کھل کر بات کی۔
دہشتگردی اور سکیورٹی پالیسی: ایک سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ سکیورٹی کی موجودہ خراب صورتحال ’’غلط پالیسیوں اور بند کمروں کے فیصلوں‘‘ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مرنے والا فوجی ہو یا سویلین، وہ غریب ماں کا بیٹا ہوتا ہے۔ کسی جرنیل، وزیراعظم یا چیف جسٹس کا بیٹا نہیں مرتا۔ خیبرپختونخوا کوئی لیبارٹری نہیں ہے کہ جو چاہے آ کر یہاں تجربات کرے۔‘‘ انہوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو دوبارہ آباد کرنے کی پالیسی بند کمروں میں بنی، جس کا خمیازہ صوبہ بھگت رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کی حکومت اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی سکیورٹی پالیسی نہ بنائی جائے۔
صوبائی فنڈز: وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر صوبے کے فنڈز روکنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ’’صحافیوں کو وفاق سے پوچھنا چاہیے کہ وہ ہمارے این ایف سی ایوارڈ، ضم اضلاع کے 100 ارب روپے اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے اربوں روپے کیوں نہیں دے رہے۔ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘‘
صوبائی نوکریاں: انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 16 ہزار ایلیمنٹری اساتذہ اور 3086 لیکچرارز کی بھرتیوں کے اشتہارات دے دیے گئے ہیں۔
پارٹی اختلافات: وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کے پی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید کی اور کہا کہ سینیٹ الیکشن میں سب نے دیکھ لیا کہ پارٹی مکمل طور پر متحد ہے۔
