جب بھی کوئٹہ میں پی ٹی آئی کوئی جلسہ کرنے لگتی ہے امن و امان کا بہانہ بنا کر دفعہ 144 لگادی جاتی ہے‘ تحریک تحفظ آئین پاکستان
جلسہ ضرور ہوگا سیاسی جماعتوں کو میدان سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم ہم آئین کے تحفظ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے‘صوبائی صدرپی ٹی آئی داؤد شاہ کاکڑ کئی ماہ گزرنے کے باوجود محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کی جارہی ہے، حالانکہ انہیں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے نامزد کیا ہے‘مرکزی سیکرٹری جنرل پشتونخوامیپ عبدالرحیم زیارتوال

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) یک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے کہا ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کی جارہی ہے، حالانکہ انہیں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے نامزد کیا ہے جب بھی پی ٹی آئی کوئی جلسہ کرنے لگتی ہے امن و امان کا بہانہ بنا کر دفعہ 144 لگادی جاتی ہے ہمیں اپنے اداروں پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ اللہ نے چاہا تو جلسہ ضرور ہوگا سیاسی جماعتوں کو میدان سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم ہم آئین کے تحفظ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے پی ٹی آئی کا مرکزی جلسہ 7 نومبر کو ہوگا جس میں تمام مرکزی قائدین شرکت کریں گے جبکہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے بانی خان شہید عبدالصمد خان کے برسی کے موقع پر 2دسمبر کو جلسہ عام ہوگا جس میں مرکز ی قائدین بھی شرکت کرے گی اگر جلسے کو ایک بار پھر سبوتاژ کرنے یا حالات خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کے ذمہ دار وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ ادارے ہوں گے‘یہ بات پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدرداؤد شاہ کاکڑ‘ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال‘ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ‘ مجلس وحدت المسلمین کے صوبائی نائب صدر علامہ ولایت حسین جعفری اور دیگر نے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘ انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتیں کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اجازت نہ دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس کو جمہوریت پر حملہ تصور کرتے ہیں کیونکہ اس وقت جمہوری زبان کو بند کرنے کے لیے عدلیہ کو ربڑ سٹیمپ بنادیا اسی طرح میڈیا کی زبا ن بند کرنے کے لئے لوگ آج اتنا مایوس ہو چکے ہیں کہ نہ ٹی وی چینل دیکھتے ہیں اور نہ اخبارات کیونکہ جمہوری جو بولتے ہیں وہ شائع نہیں ہوتے انہوں نے کہاکہ پاک انڈیا بارڈر تجارت کے لیے کھولا ہے جو ہماری حکومت اور اداروں کی سب سے زیادہ تحفظات انڈیا سے ہے لیکن دوسری جانب بلوچستان کے عوام کو معاشی طور پر خراب کرنے کے لیے تفتان سے لیکر چمن تک تمام بارڈرز بند ہیں انہوں نے کہاکہ جلسہ کے لیے گزشتہ ماہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی گئی تاہم اجازت نہ دینے پر عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب بھی پی ٹی آئی کوئی جلسہ کرنے لگتی ہے امن و امان کا بہانہ بنا کر دفعہ 144 لگادی جاتی ہے‘ہمیں اپنے اداروں پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو جلسہ ضرور ہوگا انہو نے کہا کہ آئین ہمیں جلسے جلوس کا حق دیتا ہے، لیکن بدقسمتی ہے کہ طاقتور حلقوں کو یہ بات پسند نہیں‘ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ماضی میں جمہوریت کی دعویدار تھیں مگر آج جمہوریت دشمن اقدامات کر رہی ہیںانہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اجازت نہ دینے کی مذمت کی اور کہاکہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کی جارہی ہے، حالانکہ انہیں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے نامزد کیا ہے‘انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو میدان سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم ہم آئین کے تحفظ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے‘ انہوں نے کہا کہ ہم کسی ادارے کے خلاف نہیں، لیکن ہر ادارے کو آئینی حدود میں رہنا ہوگا۔ اگر سنجیدہ حلقوں نے حالات کا نوٹس نہ لیا تو نقصان ان کے ذمہ ہوگا انہوں نے بھی پی ٹی آئی کی پریس کانفرنس اور جلسہ روکنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ملک کے مقبول ترین رہنما ہیں اور پی ٹی آئی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں کی آواز دبانے والے ملک کی خدمت نہیں کر رہے۔اگر ملک میں واقعی جمہوریت ہے تو پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے دیا جائے۔
