بلوچستان کے عوام کے حقوق کا محافظ طاقت نہیں، پارلیمنٹ ہے،میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ (قدرت نیوز ) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کی حفاظت اولین ترجیح ہے نوجوانوں کو تشدد اور دہشتگردی سے محفوظ رکھتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے بولان میڈیکل کالج میں جہاں پہلے 700 غیر طلبہ رہائش پذیر تھے سیکورٹی فورسیز نے کلیئر کردیامسنگ پرسنز کا مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں موجود ہے دہشتگردوں نے میٹرک کے بچے سے جسٹس مسکانزئی کو شہید کر دیا ہے بیوٹمز یونیورسٹی سے گرفتار پروفیسر عثمان قاضی نے یوم آزادی کے موقع پر 14 خودکش دھماکوں کا منصوبہ بنایا تھابلوچستان میں لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کی جارہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے :نجی ٹی وی: سے خصوصی گفتگو میں کہی وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی، اور ان کا نقطہ نظر چیئرمین بلاول بھٹوصدر مملکت آصف علی زرداری کے موقف کے مطابق تھا۔کہ ایسے وقت میں جب وفاقی حکومت پر فنڈز کے حوالے سے دبا ہے، بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ سب سے اہم ترجیح ہے بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ تشدد یا طاقت نہیں بلکہ پارلیمنٹ ہے۔ ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ اور فنڈز کے تحفظ کے معاملے پر پارٹی کا موقف واضح اور غیر متزلزل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا ہے کہ جب ملک کی دفاع کی بات آتی ہے یا خدانخواستہ کوئی قدرتی آفت پیش آتی ہے تو سیاسی اختلافات پس پشت رہ جاتے ہیں اور پوری قوم ایک ساتھ متحد ہو جاتی ہے ایسی صورت حال میں پارٹی بھی بیٹھ سکتی ہے اور حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیںیہ صورتحال انتہائی سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہے اور کسی بھی ملک کے لیے چیلنجز پیدا کرتی ہے ملک کی حفاظت اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے افراد جان قربانی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور اس کے مقابلے میں مالی مسائل اور دیگر معمولی امور بہت چھوٹی اہمیت رکھتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ لیویز فورس کی تنظیم میں تین اہم اجزا شامل تھے: ٹرائیول سسٹم، سول مجسٹریٹی اور خود لیویز وقت کے ساتھ لیویز فورس دیگر اداروں کی طرح منظم اور ڈسپلنڈ نہیں رہی تھی، جس پر اصلاحات کی ضرورت محسوس کی گئی بلوچستان میں لیویز فورس کو جدید نظام، تربیت اور مراعات فراہم کی جائیں گی۔ پرانے اہلکاروں کو بہتر پینشن اور دیگر فوائد دیے جائیں گے، جبکہ وہ جو مزید خدمات نہیں دینا چاہتے، وہ اپنی مراعات کے ساتھ رخصت ہو سکتے ہیں اور نئے اہلکار بھرتی کیے جائیں گے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بنیادی طور پر پولیس کا کردار ہوتا ہے، جو سوسائٹی کو منظم رکھتی ہے، جرائم پر قابو پاتی ہے اور مقامی انٹیلیجنس کے نظام کو سنبھالتی ہے لیویز فورس کی یہ اصلاحات صوبے بھر میں دسمبر یا جنوری تک مکمل کر دی جائیں گی اور یہ اقدامات بلوچستان میں امن، استحکام اورموثر پولیسنگ کے لیے ایک بڑا گیم چینجر ثابت ہوں گے ان کے مطابق اس عمل سے نہ صرف لیویز کی استعداد بہتر ہوگی بلکہ پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ ہم آہنگی بھی مضبوط ہوگی، جس سے عوام کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور ریاست مخالف چیلنجز کے دوران جو قیادت اور ذمہ داری ہوتی ہے، وہ ہمیشہ صوبائی حکومت اور اس کے اداروں کی ہوتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بلوچستان کے تناظر میں یہ ریاست کی لڑائی ہے اور اس میں ہر ادارے، جیسے پولیس، لیویز، سول سوسائٹی، میڈیا اور عدلیہ، نے الگ الگ کردار ادا کیا ہے۔ بعض عناصر بلوچ شناخت کو تشدد کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن جب صوبائی حکومت، پولیس اور لیویز سامنے سے کام کرتے ہیں تو پیرا ملٹری اور فوجی ادارے خود بخود پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ ان کے لیے حالات میں ویکیوم ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بلوچستان میں اب ویکیوم کی صورتحال کم ہو گئی ہے کیونکہ صوبے میں ایک مکمل اور فعال سیاسی حکومت موجود ہے، جس کی موجودگی سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں استحکام آیا ہے۔ ریاست کی طرف سے یہ ذمہ داری دی گئی ہے اور ہر شہری کو ریاست کے ساتھ اپنی وفاداری کے تحت اس چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہیے دہشت گردی کے خلاف فیصلے سامنے سے کیے جائیں، خطرات کا سامنا کرنا لازمی ہے، لیکن حکومت کو کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے تاکہ عوام اور اداروں کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے اور صوبے میں امن و امان کا تسلسل قائم رہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائی جانے والی محرومی اور پسماندگی صرف اس صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں اس کے مماثل علامات موجود ہیں، اس لیے محرومی کو تشدد کی شکل میں حل کرنا قطعی درست راستہ نہیں ریاست کے پاس موجود وسائل اور پالیسیز ہی حل فراہم کر سکتی ہیں اور اس کے لیے سیاسی ارادے اور مضبوط حکومتی اقدامات درکار ہیں۔ بعض حلقے بلوچ شناخت کو تشدد کے ذریعے منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اس کا حل طاقت یا عسکری کارروائی نہیں بلکہ سیاسی اور قانونی میدان میں جدوجہد ہے۔ جب صوبائی حکومت، پولیس اور لیویز صفِ اول پر آکر عوامی مسائل حل کرتی ہیں تو پیرا ملٹری اور خارجہ عناصر کے لیے ویکیوم کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کو ہر صورت پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے بلکہ عوامی سطح پر اعتماد بحال رکھنا ضروری ہے بلوچستان کی پسماندگی کا موازنہ ملک کے دوسرے علاقوں سے کیا جا سکتا ہے اور اسی بنا پر یہ کہنا درست نہیں کہ محرومی صرف بلوچ قوم کا حق ہے۔ وزیرِ اعلی نے نوجوانوں کی اجتماعی تنظیم سازی کی اہمیت پر زور دیا اور یونیورسٹیوں میں بلوچ کونسلز کے قیام اور طلبہ کی باہمی رہنمائی کو مثبت مثال قرار دیا جب بلوچستان کے نوجوان بیرونِ ملک یا بڑے شہروں میں آتے ہیں تو انہیں اپنے ساتھ بھائی چارہ اور رہنمائی ملنی چاہیے تاکہ وہ نفرت یا عدم مساوات کے جال میں نہ پھنسیں۔ این ایف سی اور دیگر مالی امور میں شفافیت اور منصفانہ تقسیم سے صوبے کی ترقی ممکن ہے اور حکومت اس ضمن میں پرعزم ہے نوجوانوں کو ریاست کے ساتھ وفاداری اور شراکت داری کی دعوت دی اور کہا کہ سماجی یکجہتی، تعلیمی مواقع اور معاشی شمولیت ہی طویل المیعاد حل ہیں ریاست کو نہ صرف سیکورٹی کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں بلکہ معاشی و سماجی پہلوں پر بھی توجہ دینا ہوگی یوتھ انٹیگریشن، لوکل ڈیولپمنٹ، اور تعلیمی مواقع کی فراہمی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ نوجوانوں کے لیے مربوط پروگرامز اور مشاورتی فورمز شروع کریں تاکہ نوجوان اپنے حقوق کے لیے جمہوری اور پرامن چینلز کے ذریعے آواز اٹھائیں انہوں نے کہا ہے کہ صوبے میں بعض طلبہ ریڈیکلائز ہونے کے خدشات کا سامنا ہیں، اور اس حوالے سے ریاست کے ادارے جیسے انٹیلیجنس ایجنسیز فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ریاست کا مقصد ایسے نوجوانوں کو تشدد اور دہشتگردی کے راستے سے بچانا اور انہیں مثبت سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے یونیورسٹیوں اور کالجز میں طلبہ کی پروفائلنگ ضروری ہے تاکہ ریڈیکلائز ہونے والے نوجوانوں کی شناخت کی جا سکے اور انہیں مناسب رہنمائی فراہم کی جا سکے یہ کام صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین اور معاشرتی حلقوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔ بلوچستان میں ہاسٹلز کی حالت بھی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، بولان میڈیکل کالج میں جہاں پہلے 700 غیر طلبہ رہائش پذیر تھے سیکورٹی فورسیز نے کلیئر کردیا، لیکن اب میڈیکل کالج اور دیگر اداروں کے ہاسٹلز میں صرف طلبہ کے لیے رہائش کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جس میں بہتر بیڈز، باتھ رومز، کچن اور ہالز شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد طلبہ کو محفوظ اور منظم تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے طلبہ کے ساتھ مسلسل ڈائیلاگ اور والدین کی آگاہی مہم بھی جاری ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت راستے پر رکھا جا سکے اور وہ دہشتگردی یا کسی انتہا پسند گروہ سے منسلک نہ ہوں ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ممکنہ ریڈیکلائزیشن کو روکنے کے لیے جامع اقدامات کرے اور معاشرے کو محفوظ بنائے۔ یہ اقدامات صرف تعلیمی اور سماجی ترقی کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان اور پورے پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی نہایت اہم ہیں۔دہشتگردوں نے میٹرک کے بچے ہاتھوں جسٹس نور محمد مسکانزئی کو شہید کر دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ صوبے میں طلبہ میں ریڈیکلائزیشن کے خطرات کو روکنے کے لیے ریاستی اور سماجی سطح پر جامع اقدامات ضروری ہیں۔ انٹیلیجنس ادارے نوجوانوں کی پروفائلنگ کر رہی ہیں تاکہ ممکنہ ریڈیکلائزیشن کو روکا جا سکے، جب کہ سیاستدانوں اور تعلیمی اداروں کا کام ہے کہ طلبہ کے ساتھ مسلسل ڈائیلاگ برقرار رکھیں یونیورسٹیوں اور کالجز میں طلبہ کی نگرانی، ہاسٹلوں کی بحالی اور نظم و نسق کے اقدامات شروع کیے گئے ہیں تاکہ غیر طالب علموں کی غیر قانونی رہائش کا سلسلہ ختم ہو اور طلبہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں۔ ماضی میں بہت سے ہاسٹلوں میں غیر متعلقہ لوگ رہائش پذیر تھے، جن کی موجودگی طلبہ کے ساتھ مسائل پیدا کرتی تھی ان ہاسٹلوں کی مرمت اور منظم رہائش کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں حکومت نے والدین کو یہ پیغام دینا شروع کر دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اگر طالبِ علم کہیں غیر حاضر ہے یا مشکوک سرگرمی میں ملوث ہو رہا ہے تو والدین اور اداروں کو فوری طور پر معلومات فراہم کرنی چاہئیں تاکہ وقت پر مداخلت ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ مسئلے کے تین بنیادی رخ ہیں تشدد، سماجی اخلاقی عوامل اور سوشل میڈیا اور ان سب کا اثر نوجوانوں کی سوچ پر پڑتا ہے ریاستی پالیسیوں، تعلیمی مواقع اور سماجی انضمام کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل نکالا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی کی زندگی میں طلبہ کے رہنماں اور بلوچ کونسلز کے کردار کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ جب بیرونِ صوبے یا ملک کے شہروں میں آنے والے طلبہ کو بھائی چارے اور رہنمائی ملتی ہے تو وہ انتہا پسندی کے راستے پر کم جاتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے دعوی کیا کہ یونیورسٹیوں میں طلبہ سے براہِ راست بات چیت شروع کریں گے اور خود بھی مختلف جامعات کا دورہ کریں گے تاکہ طلبہ اپنی باتیں کھل کر بیان کریں۔انٹیلیجنس اداروں کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو نوجوان ریڈیکلائز ہونے کے آثار دکھائیں، ان کی بروقت شناخت اور مثبت رہنمائی ضروری ہے۔ یہ عمل صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعلیم، روزگار اور سماجی شمولیت کے ذریعے بھی نوجوانوں کو ریاست کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہیے سیکورٹی فورسیز نے بیوٹمزیونیورسٹی سے پروفیسر عثمان قاضی کو گرفتار کیا بلوچستان میں بڑا واویلا ہوا قاضی نے یوم آزادی کے موقع ہر 14خودکش دھماکے کا پلان تیار کیا تھا انہوں نے کہا ہے کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی محرومی کے مختلف پہلو موجود ہیں، اس لیے اس معاملے کو جذباتی بیانیے تک محدود کرنے کے بجائے قانونی، عدالتی اور انتظامی طریقہ کار سے حل کرنا ہوگا ریاست نے اس امر کے حل کے لیے قانون بنایا ہے اور اب گرفتاریوں، حراست اور انفورس ڈسپیرنس کے معاملے میں شفافیت اور عدالتی اوور سائٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔کہ جب بھی کسی شخص کو حراست میں لیا جاتا ہے تو اس کے بارے میں سب سے پہلے اہلکار کی گرفتاری کی تصدیق اور مجاز مجسٹریٹ کو مطلع کرنے کا عمل ضروری ہوگا۔ گرفتاری کے فورا بعد ملزم کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے گا جس کی رپورٹس عدالتی انسٹانس کے سامنے رکھی جائیں گی۔ اگر حراست کی مدت میں توسیع درکار ہو تو اس کا اختیار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس ہوگا اور متعلقہ اداروں کو ثبوت چیمبر میں پیش کرنے ہوں گے تاکہ ایڈیشنل ایکسٹینشن دی جا سکے بعض حلقے اس مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، مگر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام حقائق سامنے لا کر یہ طے کرے کہ انفورس ڈسپیرنسز کے الزامات کس حد تک درست ہیں غیر قانونی حراست اور زیادتی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اسی لیے موجودہ فریم ورک میں گرفتاریوں کی قانونی بنیاد، عدالتی نگرانی اور شفاف میڈیکل پروفائلنگ جیسی گارنٹیز شامل کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی زیادتی روکی جا سکے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ مسنگ پرسنز کے حوالے سے بعض صوبوں میں کیسز بلوچستان سے زیادہ بھی ہیں لاپتہ پر بلوچستان میں اپنی سیاست کی جاری ہے، لہذا اس مسئلے کو پورے قومی سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔ ریاستی ادارے خاص طور پر انٹیلی جنس ایجنسیاںوہ کام کریں جن کے لیے وہ بنائے گئے ہیں: وقت پر شناخت، روک تھام اور ممکنہ ریڈیکلائزیشن کی پیش بندی۔ ساتھ ہی سیاستدانوں، والدین اور تعلیمی اداروں کا رول بھی اہم ہے؛ طلبہ کے ساتھ مسلسل ڈائیلاگ، ہاسٹلز کی نگرانی اور والدین کی آگاہی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اب تک چند مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہیں اور ان کے ریفرنسز قانونی عمل کے تحت آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جب بھی کوئی گرفتار ہوگا تو اس کا ریکارڈ، میڈیکل چیک اپ اور حراست کے جواز کو عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ کسی بھی غیر قانونی عمل کو روکنے کے ساتھ ملزمان کے حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہو۔ عوام اور متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ ریاست کے بنائے گئے قانونی راستوں سے رجوع کریں اور کسی بھی مشکوک معاملے کی شکایت متعلقہ فورمز میں درج کروائیں تاکہ شفاف اور ذمہ دارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے آئیں اور انصاف یقینی بنایا جا سکے۔
