خیبر پختونخوا نام کی تبدیلی ‘ حکومت نے 2 ماہ بعد کا وقت دیدیا
مطالبہ پورا نہ ہونے کے باوجود اے این پی 27 ویں ترمیم کی حمایت پر قائم — ایمل ولی خان کا مؤقف یوٹرن بن گیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی نئی آئینی ترمیم نہیں آرہی، جو سامنے آچکی ہے وہی ہے، جبکہ پختونخوا کے نام پر سب نے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کو ایک دو ماہ کے لیے مؤخر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ترمیم منظور کرانے کیلئے نمبرز کا کوئی مسئلہ نہیں، اور وزیراعظم نے استثنیٰ سے انکار کرکے ایک احسن قدم اٹھایا ہے کیونکہ استثنیٰ کسی کیلئے بھی نہیں ہونا چاہیئے اور سب کو احتساب کے لیے پیش ہونا چاہیئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اے این پی کی یہ وضاحت واضح تضاد رکھتی ہے، کیونکہ پارٹی کا پہلے مؤقف تھا کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت اسی صورت میں کرے گی جب اس میں خیبر پختونخوا کے نام کی تبدیلی شامل ہوگی، لیکن اب اپنا مطالبہ پورا نہ ہونے کے باوجود ایمل ولی خان کی جانب سے حکومت کی حمایت کا اعلان اے این پی کے مؤقف میں کھلا یوٹرن قرار دیا جا رہا ہے۔
