بلوچستان ہائی کورٹ کا پی آئی اے کے سی ای او اور سول ایوی ایشن حکام کو شوکاز نوٹس جاری کردیا


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ سے ملک کے دیگر شہروں کے لیے فضائی پروازوں کی کمی اور ٹکٹوں کے غیرمعمولی اضافے کے خلاف دائر آئینی درخواست میں قومی ایئر لائن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایئر وائس مارشل محمد عامر حیات اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، جبکہ مسابقتی کمیشن سے ایئرلائنز کے ممکنہ گٹھ جوڑ پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔چیف جسٹس جناب روزی خان بڑیچ اور جسٹس جناب سردار احمد حلیمی پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر حاجی اختر محمد کاکڑ کی جانب سے ایڈووکیٹ ڈاکٹر پرویز خان کے توسط سے دائر درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران پی آئی اے بلوچستان کے ریجنل جنرل منیجر، وکیل اقبال شاہ ایڈووکیٹ کے علاوہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل فرید ڈوگر اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل انور نسیم کاسی عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم پی آئی اے کے سی ای او اور سول ایوی ایشن کے ڈپٹی سیکریٹری گزشتہ سماعت کے حکم کے باوجود پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس روزی خان بڑیچ نے ریمارکس دیے کہ یہ عوامی مفاد کا اہم کیس ہے، صوبے کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے مگر متعلقہ ادارے اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ سرکاری وکلا نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ پیغام پہنچانے میں تاخیر ہوئی، اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت پر دونوں افسران ذاتی طور پر پیش ہوں گے۔درخواست گزار حاجی اختر محمد کاکڑ نے مقف اختیار کیا کہ ملک میں پانچ ایئرلائنز کام کر رہی ہیں مگر کوئٹہ کے لیے صرف دو ایئرلائنز پروازیں چلاتی ہیں، وہ بھی ہفتے میں ایک یا دو پروازیں جو اکثر منسوخ کردی جاتی ہیں، جبکہ دیگر دو ایئرلائنز کوئٹہ کے لیے کوئی پرواز نہیں چلاتیں۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ اندرونِ بلوچستان جیسے گوادر، تربت اور ژوب کے لیے بھی کوئی فضائی سہولت دستیاب نہیں حالانکہ طویل فاصلے، خراب سڑکیں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث فضائی سفر عوام کی مجبوری بن چکا ہے۔درخواست کے مطابق اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے درمیان روزانہ دس سے زائد پروازیں چلتی ہیں جن کے کرایے بیس سے تیس ہزار روپے ہیں، لیکن کوئٹہ کے لیے نہ صرف پروازیں ناپید ہیں بلکہ کرایے کئی گنا زیادہ ہیں، حالانکہ فاصلہ کم ہے۔درخواست گزار نے مقف اپنایا کہ ایئرلائنز کا طرزِ عمل آئین کے آرٹیکل 8، 9، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے، جو شہریوں کو مساوی مواقع، کاروبار کی آزادی، اور زندگی و نقل و حرکت کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔عدالت نے سماعت کے بعد پی آئی اے، سول ایوی ایشن اور مسابقتی کمیشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب اور رپورٹ طلب کرلی تاکہ بلوچستان کے عوام کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح برابر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے واضح اقدامات کیے جا سکیں۔

WhatsApp
Get Alert