پشتون قوم پر مسلط غربت اور پسماندگی قومی محکومی کا نتیجہ ہے، درپیش حالات سے نجات کا واحد راستہ قومی اتحاد ہے ، محمد عیسیٰ روشان

پشین ( ڈیلی قدرت )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات محمد عیسی روشان، صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز پروفیسر اسد ترین اور غنی فدائی، ضلعی سینئر ڈپٹی آرگنائزر نصیب اللہ کلیوال اور ضلعی رہنماں ڈاکٹر حیات خان، سید فدا آغا، انور وحدت، پیر حمد اللہ اور عصمت خان کونسلر نے کہا ہے کہ پشتون قوم پر مسلط غربت، بھوک، افلاس، پسماندگی، جہالت اور زندگی کے ہر شعبے میں سہولتوں کی عدم فراہمی کوئی اتفاقی المیہ نہیں بلکہ قومی محکومی، سیاسی اختیار سے محرومی اور پشتون قومی وحدت (صوبے) کے نہ ملنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں پر جاری اجتماعی ظلم، زبردستی کی محرومیاں اور منظم نسل کشی ہمارے قومی حقوق چھیننے کی دیرینہ پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔ رہنماں نے کہا کہ اس سنگین اور کٹھن صورتحال سے نجات کا واحد راستہ قومی اتحاد، اتفاق رائے اور ایک متحدہ قومی محاذ کی تشکیل ہے، جو وقت کی اولین قومی ضرورت بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بازار کونہ علاقائی یونٹ میں، علاقائی سیکریٹری سالار خان کی رہائش گاہ پر منعقدہ اولسی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں 2 دسمبر کو ہونے والی ضلعی کانفرنس کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سالار شہدا خان شہید کی 52 ویں برسی اور پشتون قومی تحریک کے رہنما ارواح شاد میرا خان مندوخیل کی برسی کے موقع پر ضلعی کانفرنس کا انعقاد نہایت قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اس تاریخی کانفرنس میں خان شہید کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے اس عزم کی تجدید کی جائے گی کہ پشتون افغان ملت کو درپیش اذیت ناک حالات سے نجات کے لیے جدوجہد کو مزید منظم، مربوط اور تیز کیا جائے گا۔ رہنماں نے اس بات پر زور دیا کہ پشتون قومی سیاسی تحریک کے تمام دھڑوں کا اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں منفی تنقید، گروہی اختلافات اور انتشار پیدا کرنے والے رویے قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہیں۔ پشتون قیادت پر لازم ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو بروقت ادا کرے، ورنہ تاریخ کسی فریق کو بھی معاف نہیں کرے گی اور موجودہ صورتحال مزید تباہی، بربادی اور قومی نقصان کا سبب بنے گی۔رہنماں نے کہا کہ پارٹی عہدیداران اور کارکنان نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانفرنس کی کامیابی، سالار شہدا کی برسی کی شایانِ شان تقریب اور قومی یکجہتی کے پیغام کی مثر ترسیل کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کریں۔
