خیبر پشتونخوا اسمبلی کی تقسیم کی قرارداد ناقابل قبول، یہ ہزارہ کو وفاق کے کنٹرول میں لانے کی سازش ہے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ ( ڈیلی قدرت )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ سخت ردعمل میں خیبر پشتونخوا اسمبلی کی جانب سے صوبے کی ممکنہ تقسیم سے متعلق قرارداد کو بدترین پشتون دشمن قدم اور ناقابلِ معافی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے اس قرارداد کی حمایت کرنے والے تمام اراکینِ اسمبلی کو پشتون تاریخ، وحدت اور قومی تشخص کے خلاف کھڑا ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔بیان میں کہا گیا کہ تاریخی ہزارہ کا خطہ صدیوں سے سرزمینِ پشتونخوا کا بنیادی حصہ اور پشتون افغان ملت کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہاں کے عوام نسل، زبان، ثقافت اور تاریخ کے لحاظ سے غورغوشت، ترین، پنڑی، یوسف زئی اور دیگر قبائل کا حصہ ہیں۔ ہندکو زبان کو بھی پشتونخوا کی قومی زبانوں میں شمار کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ یہاں کے گجر اور دیگر اقوام بھی پشتونخوا کی ہی آبادی کا حصہ ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پشتون عوام کا دیرینہ قومی مطالبہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ انگریز کی استعماری تقسیم ختم کی جائے اور اٹک، میانوالی اور جنوبی پشتونخوا کو موجودہ خیبر پشتونخوا میں ضم کرکے بولان سے چترال تک متحدہ، بااختیار صوبہ قائم کیا جائے، تاکہ پشتونوں کو بھی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی طرح مکمل آئینی اور قومی حق مل سکے۔پارٹی کے مطابق ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کا مقصد اسے وفاقی دارالحکومت کے دائرے میں شامل کرنے کی استعماری سازش ہے، جس کے نتیجے میں ہزارہ کے قومی وجود، شناخت اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کی جائے گی۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک کے حکمران پنجاب، سندھ یا بلوچستان کی تقسیم کی ہمت نہیں رکھتے، مگر پشتونخوا کی مزید تقسیم پر بضد ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اراکینِ اسمبلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فرض پشتونخوا کی وحدت، تشخص اور وسائل کا دفاع ہے، نہ کہ اس کے حصے بخرے کرنا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قرارداد واپس لی جائے اور عوام سے معافی مانگی جائے۔آخر میں تمام جمہوری اور قوم پرست قوتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس استعماری منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ پشتونخوا کے عوام اپنی تاریخی سرزمین کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert