عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹ، علیمہ خان کا کارکنان کے ہمراہ فیکٹری ناکہ پر دھرنا

راولپنڈی(قدرت روزنامہ)بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہنیں منگل کے روز اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئیں تو فیکٹری ناکہ پر پولیس نے انہیں روک دیا، جس کے بعد علیمہ خان نے کارکنان کے ہمراہ وہیں دھرنا دے دیا۔
پولیس کی جانب سے ناکہ بندی کے باوجود متعدد پی ٹی آئی کارکنان بھی موقع پر پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔
آگئی ہوں گرفتار کرلو۔۔۔
علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو۔۔۔ pic.twitter.com/PTJ0iBAJdS— Faisal Tarar (@FaisalTararSpks) December 9, 2025
’پولیس سے کوئی لڑائی نہیں، یہ ہمارے بھائی ہیں‘
علیمہ خان نے فیکٹری ناکہ پر موجود کارکنان کو مسلسل پرسکون رہنے اور پیچھے ہٹنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس سے ہماری کوئی لڑائی نہیں، پولیس والے ہمارے بھائی ہیں، وہ خود بھی پریشان ہیں اور ہمارے ساتھ بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو پیچھے کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خواتین بھی ہمارے ساتھ ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا ۔۔۔۔ pic.twitter.com/z2uCEC8A1S
— Maj (R) Latasob Satti (@RLatasob) December 9, 2025
’ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، یہ ذہنی اذیت ہے‘
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ ایک طویل عرصے سے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بانی پی ٹی آئی کو ذہنی ٹارچر کر رہے ہیں، وہ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ہم ایک ماہ سے مسلسل ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔ میری بہن نے گزشتہ ملاقات پر کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی تھی، سرکاری ملازمین کے رویے پر بات کرنا سیاسی گفتگو نہیں ہوتا۔ ب انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ بانی پی ٹی آئی کیسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، کوئی ایک مثال تو دیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کس کے احکامات پر انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے؟
عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا۔ مینا خان آفریدی، مرزا آفریدی، نعیم پنجوتھا اور دیگر رہنماء بھی دھرنے میں موجود ہیں۔ pic.twitter.com/MhgriArN3m
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) December 9, 2025
علیمہ خان کی صحافیوں کو سخت تنبیہ
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی سوچ سمجھ کر سوال کریں، ورنہ میں بات نہیں کروں گی۔
کارکنان کی آمد اور دھرنا
صورتحال گھمبیر ہونے پر مزید درجنوں کارکنان فیکٹری ناکہ پہنچ گئے جس کے بعد علیمہ خان نے کارکنوں کے ساتھ وہیں دھرنا دے دیا۔ کارکنان کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا۔
