مائنز اینڈ منرلز ایکٹ قومی وحدت اور وسائل کی لوٹ مار کا سامراجی طریقہ ہے، سیاسی جماعتیں راستہ روکیں: لشکری رئیسانی

ہماری زمین عالمی بینکوں کے پاس گروی رکھی جائے گی، پارلیمانی جماعتیں مشترکہ مسودہ تیار کریں، بی این پی کے رہنماؤں سے ملاقات


کوئٹہ ( ڈیلی قدرت ) سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے کا ایک سامراجی قانونی طریقہ ہے جس کے ذریعے ہماری قومی وحدت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کو الاٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ کمپنیاں ہماری قومی سرزمین اور وسائل کو عالمی بینکوں میں گروی رکھیں گی اور ہم دہائیوں تک ان کے چنگل سے نہیں نکل پائیں گے۔
یہ بات انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر آغا حسن بلوچ، غلام نبی مری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ لشکری رئیسانی نے کہا کہ وہ آئندہ نسلوں کی باعزت زندگی کے لیے سیاسی جماعتوں کے پاس چل کر جا رہے ہیں تاکہ قانون کے سائے میں ہونے والی لوٹ مار کا راستہ روکا جا سکے۔ انہوں نے اسمبلی میں موجود جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک مشترکہ مسودہ تیار کر کے صوبائی حکومت سے اس قانون کو واپس لینے کی بات کریں۔
بی این پی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے لشکری رئیسانی کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے بعد بلوچستان کے حقوق سلب کرلیے گئے ہیں، وسائل پر قبضے کے خلاف مشترکہ جدوجہد وقت کی ضرورت ہے۔

WhatsApp
Get Alert