کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بارش اور برفباری، شاہراہیں بحال، سردی کی شدت بڑھ گئی، گیس غائب، شہری پریشان

چمن، زیارت، قلات اور گوادر میں موسمی تبدیلی، قلات میں درجہ حرارت نقطہ انجماد پر، پی ڈی ایم اے مشینری متحرک


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبے کے شمالی، پہاڑی اور ساحلی علاقوں میں موسمِ سرما کی بارش اور برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ چمن، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی، زیارت، کان مہترزئی، قلعہ سیف اللہ، کوژک ٹاپ اور دیگر بالائی علاقوں میں تیز بارش اور برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے کی ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں اور سنو پلوز، لوڈرز اور بھاری مشینری کی مدد سے برف ہٹانے کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے، جس کے باعث شاہراہیں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کی گئی ہیں محکمہ موسمیات نے دو روز قبل ہی الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام ضلعی انتظامیہ کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی ہدایات دے دی تھیں۔ نیشنل ہائی ویز اور برفباری کے خطرے والے علاقوں میں ریسکیو فورس اور مشینری تعینات کر دی گئی ہیں۔قلات شہر اور گردونواح میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد درجہ حرارت نقظہ انجماد تک پہنچ گیا۔ شدید سردی میں بجلی کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور سوئی گیس کی بندش نے شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ شہریوں نے انگیٹی میں کوئلہ اور لکڑی استعمال کرنا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے بازاروں میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں پہاڑوں نے سفید چادر اوڑلی بازاروں میں لکڑی اور کوئلے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیاکئی علاقوں میں دیواریں گر گئیں ، درخت اکھڑ گئے۔چاغی، تفتان، کچاو اور سیندک میں بھی موسمی اثرات جاری ہیں، جہاں نوکنڈی، برابچاہ اور دالبندین میں موسم سرما کی ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی۔ گوادر میں شہر اور گردونواح میں طویل انتظار کے بعد بارش ہوئی، جس سے شہری خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔بالائی پہاڑی علاقوں جیسے کان مہترزئی اور کوژک ٹاپ پر تیز ژالہ باری اور پہلی برفباری نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی ریسکیو فورس اس موقع پر موجود ہے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے دیگر اضلاع بشمول مستونگ، سبی، تربت، نوکنڈی، چمن، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ہرنائی، پشین اور ژوب میں بھی بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے۔ قلات میں درجہ حرارت صفر، کوئٹہ میں 6، زیارت منفی 1، ژوب 6، سبی 10، تربت 13 اور چمن 7 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔اس موسم کی آمد سے نہ صرف طویل خشک سالی کا خاتمہ ممکن ہوا ہے بلکہ کسانوں، زمینداروں اور مالدار طبقے کے چہروں پر خوشی کا اظہار بھی دیکھا گیا ہے۔ بارش اور برفباری نے زرعی زمینوں اور بالائی علاقوں کے پانی کے ذخائر کے لیے امید پیدا کی ہے، جبکہ شہری سرد موسم میں گرمائش کے لیے انگیٹی، کوئلہ اور لکڑی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔بلوچستان بھر میں موسمی اثرات کے باعث پی ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات مسلسل الرٹ پر ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert