اغبرگ میں متنازعہ زمین پر فارم اسکیم مسترد، اراضی مالکان نے وزیراعلیٰ اور نیب سے نوٹس لینے کی اپیل
عدالتی حکم امتناعی کے باوجود کیو ڈی اے کا منصوبہ تشویشناک، امن و امان بگڑ سکتا ہے: ملک اسلم بازئی و دیگر کا انتباہ

کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ) موضع خشکابہ ژوڑ اغبرگ میں واقع متنازعہ اراضی پر مجوزہ فارم اسکیم کے حوالے سے اراضی مالکان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خرید و فروخت اور کسی بھی قسم کی ترقیاتی سرگرمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جدی پشتی اراضی کے مالکان ملک اسلم بازئی، محمد یوسف بازئی، حبیب الرحمن، عتیق اللہ، احمداللہ، اسلام محمد، شمس اللہ، ظفر اللہ اور دیگر زمینداروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ زمین طویل عرصے سے قانونی تنازع کا شکار ہے اور اس پر ایڈیشنل کمشنر کی جانب سے واضح عدالتی اسٹیے آرڈر بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے) کی جانب سے اس زمین پر اسکیم شروع کرنے کی کوششیں تشویشناک ہیں۔ اراضی مالکان کے مطابق چند ماہ قبل اسی متنازعہ زمین پر فریقین کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اور یہ واقعات سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر رپورٹ بھی ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے کا آغاز علاقے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ زمینداروں نے مقف اختیار کیا کہ موضع کے نئے بندوبست اور ملکیتی تنازع کے معاملات اس وقت عدالتِ عالیہ بلوچستان اور کمشنر کوئٹہ کے سامنے زیرِ سماعت ہیں، لہذا اس دوران کسی سرکاری ادارے کی جانب سے زمین کی خریداری یا منصوبہ بندی عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر مبینہ طور پر نجی ڈویلپرز کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے اسی زمین کو پہلے غیر قانونی طور پر فروخت کر چکے ہیں اور اب جعلی دستاویزات کے ذریعے اسے سرکاری ادارے کو فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ بیان کے مطابق مذکورہ نجی ڈویلپر کی نواں کلی میں قائم متعدد رہائشی اسکیموں کے پاس بھی کیو ڈی اے کا این او سی موجود نہیں جبکہ ان کے خلاف مختلف اداروں میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ اراضی مالکان نے وزیراعلی بلوچستان، چیف سیکرٹری، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ، ڈی جی نیب اور ڈی جی اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متنازعہ زمین پر کسی بھی قسم کی خریداری یا ڈیری فارم اسکیم کو روکوائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیری فارم منصوبے کے لیے کسی غیر متنازعہ اور سرکاری زمین کا انتخاب کیا جائے تاکہ ممکنہ تنازعات اور ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ زمینداروں نے واضح کیا کہ وہ اپنے قانونی حقِ ملکیت کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔
