سبی افغان سلطنت کا جنوبی قلعہ تھا، آج یہاں پشتون او پی ٹی کے مریض کی طرح کمزور ہیں اس کمزوری سے چھٹکارے کا ایک ہی حل ہے کہ سبی کے تمام پشتون قبائل متحد ہوجائیں، محمود اچکزئی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) تحر یک تحفظ آ ئین پا کستا ن ا و ر پشتو نخو ا میپ کے سر بر ا ہ محمود خا ن ا چکز ئی نے سبی میں جر گہ سے خطا ب کر تے ہو ئے کہا کہ سبی ا فغا ن سلطنت کا جنو بی بر ج (قلعہ) تھا، ا س کا مر کز سر نگا ن تھا، سر نگا ن میں سر د ا ر با ر و ز ئی کی سربر اہی میں پشتو ن خبک ا و ر د یگر قبا ئل کی اپنی سلطنت قا یم تھی، میں تفصیل میں نہیں جا تا کہ لڑ ا ئیا ں ہو ئیں،کہا ں ہو ئیں، کیو ں ہو ئیں ا ب کیا ہما ر ی و ہ حا لت ہے جو ا س و قت تھی، با ر و ز ئی بھی ز ند ہ ہیں خد ا ا نہیں ز ند ہ ر کھے، د و تا نی بھی ہیں، لو نی بھی ہیں، خبک بھی ہیں، سلا چی بھی ہیں۔ آ ج پشتو ن یہا ں ا یک ا و پی ٹی کے مر یض کی طر ح کمز و ر ہو تے جا ر ہے ہیں، ا س کا ایک ہی علا ج ہے ا گر کو ئی کسی بھی پشتو ن قبیلے کی ز مین پر قبضہ کر ے تو تما م پشتون ملکر ا س کا د فا ع کر یں۔
