غیر قانونی سرگرمی میں مقامی ماہیگیر ملوث نہیں بلکہ غیر مقامی ماہی گیروں کو سرپرستی دے کر ان پر مسلط کیا جا رہا ہے،ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

**کوئٹہ (قدرت روزنامہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی **مولانا ہدایت الرحمن بلوچ** نے گوادر پسنی میں ماہی گیروں کے وفد سے ملاقات اور ایک تقریب سے خطاب کے دوران ساحلی علاقوں میں جاری **غیر قانونی فشنگ اور سرکلنگ (گٹ) کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں **مقامی ماہی گیر ملوث نہیں** بلکہ غیر مقامی ماہی گیروں کو سرپرستی دے کر ان پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق غیر مقامی کشتیوں کے ذریعے ممنوعہ طریقوں سے شکار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث **سمندری وسائل تیزی سے ختم** ہو رہے ہیں اور مقامی ماہی گیروں کا روزگار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ **سرکلنگ (گٹ)** جیسے غیر قانونی طریقوں سے مچھلی کا بے دریغ شکار کیا جا رہا ہے جو قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرگرمیاں **محکمہ فشریز کی مبینہ ملی بھگت** کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ منسٹر فشریز، سیکریٹری فشریز اور ڈی جی فشریز کو بارہا شکایات اور نشاندہی کے باوجود مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے واضح کیا کہ مقامی ماہی گیر قانون کے دائرے میں رہ کر ماہی گیری کرتے ہیں اور وہ خود بھی غیر قانونی فشنگ کے خلاف ہیں، تاہم بااثر عناصر کی پشت پناہی سے غیر مقامی گروہوں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے جس سے مقامی آبادی میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ **غیر قانونی فشنگ اور سرکلنگ کے خلاف فوری اور سخت کریک ڈاؤن** کیا جائے، غیر مقامی غیر قانونی آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے اور **محکمہ فشریز کی کارکردگی کی شفاف انکوائری** کرائی جائے۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو وہ مقامی ماہی گیروں کے ساتھ مل کر **احتجاجی لائحہ عمل** اختیار کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert