کوئٹہ ،سبی ،قلعہ سیف اللہ ، ژوب ،مسلم باغ ( پ ر ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن پر صوبہ بھر میں سیمینارز اور تقریبات کا انعقاد


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)یونیسکو کی جانب سے 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیے جانے کے موقع پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام جنوبی پشتونخوا کے مختلف اضلاع — کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، سبی، مسلم باغ اور ژوب — میں علمی، ادبی اور فکری سیمینارز اور اجتماعات منعقد کیے گئے۔ ان تقریبات میں پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین، ضلعی رہنما، پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے عہدیداران، ادبی و ثقافتی شخصیات، دانشوروں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے مادری زبانوں کی تاریخی اہمیت، ان کے آئینی حقوق، تعلیمی و سرکاری نفاذ، اور قومی تشخص سے ان کے گہرے تعلق پر تفصیلی اور مدلل اظہارِ خیال کیا۔
کوئٹہ میں مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا کی زیر صدارت تختانی بائی پاس پر حاجی نور محمد وردگ کی رہائش گاہ پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار سے صوبائی سیکرٹری فقیر خوشحال کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری رحمت اللہ صابر، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ خان بڑیچ، پی ایس او کے صوبائی سیکرٹری وارث خان افغان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ندا سنگر اور مبارز خان بڑیچ نے خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض نور آغا درانی نے انجام دیے۔
قلعہ سیف اللہ میں مرکزی کمیٹی کے رکن شمس رودوال کی زیر صدارت نشست منعقد ہوئی، جس سے سید اکبر کاکڑ (یاسر)، کلیوال خیراللہ اور عبدالخالق افغان نے خطاب کیا، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عزیز آرین نے سرانجام دیے۔ سبی میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری احمد خان لونی اور دیگر رہنماؤں نے عوامی اجتماع سے خطاب کیا اور مادری زبانوں کے فروغ اور نفاذ پر زور دیا۔
مسلم باغ میں ضلعی سیکرٹری چیئرمین اللہ نور خان کاکڑ کی قیادت میں منعقدہ سیمینار سے انہوں نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی روح، شناخت، تاریخ اور اجتماعی شعور کی اساس ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب زبان کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو قوم کی فکری بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں، کیونکہ زبان ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے نسل در نسل علم، اقدار، روایات اور تاریخی شعور منتقل ہوتا ہے۔ اس موقع پر پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سینئر نائب سیکرٹری سلال افغانمل، جعفر خان کاکڑ اور انعام اللہ نے بھی خطاب کیا اور نوجوان نسل کو اپنی زبان پر فخر کرنے اور اسے عملی زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔
ژوب میں ضلعی سیکرٹریٹ میں ایک باوقار تقریب صوبائی نائب صدر عبدالقیوم ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں نعمت اللہ مندوخیل، ڈاکٹر بایذید روشان، لال جان ترابی، مولانا عبدالحسیب خوستی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض پی ایس او کے زونل نائب سیکرٹری ایمل څاروان نے انجام دیے اور تقریب کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ مادری زبان محض اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی شناخت، ثقافتی بقا، فکری آزادی، سیاسی شعور اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اقوام نے اپنی زبان کو تعلیم، تحقیق اور سرکاری امور میں مقام دیا، وہی علمی اور معاشی میدان میں آگے بڑھیں۔ اس کے برعکس جہاں مادری زبانوں کو پسِ پشت ڈالا گیا، وہاں احساسِ محرومی، تعلیمی کمزوری اور ثقافتی انقطاع نے جنم لیا۔
تقاریر میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پشتو سمیت تمام قومی زبانوں کو آئینی اور عملی طور پر قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے، انہیں سرکاری، دفتری اور عدالتی زبان کے طور پر تسلیم کیا جائے، اور ابتدائی سطح سے اعلیٰ تعلیم تک مادری زبان کو بطور ذریعہ تعلیم نافذ کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے طلبہ کی فہم، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی شعور میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ دوسری زبانوں کا سیکھنا بھی اسی مضبوط بنیاد پر زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نصاب سازی، سرکاری ابلاغ، میڈیا اور عدالتی نظام میں مادری زبانوں کو مناسب اور باوقار مقام دیا جائے، اور ان کی ترویج کے لیے باقاعدہ پالیسی سازی، بجٹ مختص کرنے اور ادارہ جاتی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی مادری زبانوں کے تحفظ، فروغ اور سرکاری سطح پر نفاذ کے لیے اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی، عوامی شعور بیدار کرنے کی مہم کو مزید وسعت دے گی اور آنے والی نسلوں کو اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے مضبوط، باوقار اور شعوری رشتہ قائم رکھنے کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert