‘چیف جسٹس نے سلام کا جواب تک نہیں دیا،’ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اسلام آباد ہائیکورٹ آمد

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد سرفراز ڈوگر سے ملاقات کے لیے عدالت کے روسٹرم پر جا کر بات کرنے کی کوشش کی، تاہم چیف جسٹس نے انہیں سنے بغیر ہی چیمبر میں داخل ہو گئے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے مقدمات کی سماعت جلد از جلد ہونے اور بعض متفرق درخواستوں و ضمانت کی درخواستوں کو جلد از جلد مقرر کرنے کے حوالے سے بات کر سکیں۔
وزیراعلیٰ کو چیف جسٹس کے سیکریٹری نے ملاقات کے لیے سیکریٹری آفس میں آنے کی ہدایت دی، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے، میں اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا۔ اس موقع پر عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی عدالت میں موجود تھیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات ممکن نہیں تھی، اسی لیے میں رمضان کے روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور انہیں سلام کیا، مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، بلکہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کرتی ہے، جو ہمارا حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوا گھنٹہ انتظار کے باوجود چیف جسٹس نے سلام کا جواب تک نہیں دیا، جبکہ شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست بھی سماعت کے لیے نہیں لگی۔
سلمان اکرم راجہ کی گفتگو
وکیل سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ عدالت نے ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا شیڈول دیا تھا، ایک دن وکلا اور ایک دن فیملی کے لیے، مگر اس کے باوجود جیل سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ توہین عدالت کی درخواستیں دائر کی گئیں، لیکن سماعت نہ ہوئی اور پرانی درخواستیں یک جنبش قلم نمٹا دی گئیں۔
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے ہمارے لیے بند ہیں، جہاں درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں مگر سنوائی نہیں ہوتی۔ ٹوئٹر کیس میں بھی عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی ہدایات دیں، لیکن ملاقات نہ کرائی گئی، اور عدالت نے بغیر ملاقات کے جواب داخل کرنے اور بحث کرنے کی ہدایت جاری کی۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر سہیل آفریدی نے ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے اوپن کورٹ میں موقف پیش کرنے کی کوشش کی، مگر چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق مقدمہ سپریم کورٹ بھیجا جائے گا اور عمران خان کا کیس عوام و قوم کے لیے لڑا جائے گا۔
