کوئٹہ میں ڈکیتیوں کی لہر، فائرنگ سے درزی جاں بحق، شہری عدم تحفظ کا شکار

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)کوئٹہ میں ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ تازہ واقعے میں مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک درزی جاں بحق ہوگیا جبکہ متعدد شہریوں کو موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور نقدی سے محروم کردیا گیا۔تھانہ زرغون آباد میں ڈکیتوں نے صفدر نامی درزی کو دوران ڈکیتی فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔ مزاحمت پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک درزی موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف کی فضا قائم ہوگئی۔تھانہ خالق شہید کے ایریے میں سجاد الٰہی نامی شخص سے ڈکیتوں نے فون اور کامران سے نامعلوم الاسم چوروں نے موٹر سائیکل چھین لیا ۔ تھانہ صدر کے ایریے میں محمد علی سے تین نامعلوم الاسم 125/CC موٹر سائیکل چھین لیا جبکہ شاہ گل کا موٹر سائیکل چوری ہوا اور نذیر احمد جوکہ محکمہ پولیس کا ملازم ہے ہی سے دو نامعلوم الاسم ڈکیتوں نے موبائل فون اور بٹوا چھین لیا ۔تھانہ سول لائن کے ایریے میں محمد حمزہ اپنے موٹر سائیکل سے اور عطاء اللہ نامی شخص سے ڈکیتوں نے موبائل فون سےمحروم کردیئے گئے ۔تھانہ قائد آباد کے ایریے میں کامران گل کا موٹر سائیکل چوری ہوا۔تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کے ایریے میں مقصود احمد کے گھر میں 7/8 نامعلوم الاسم ڈکیتوں نے اسلحہ زور پر گھر میں داخل ہوئے اور جمع شدہ جمع پونچھی تقریبا36 لاکھ سے زائد روپے لے اڑے اور محمد اکرم سے تین نامعلوم الاسم ڈکیتوں نے 125 موٹر سائیکل اور باور خان سے VIVO موبائل بٹوا اور موٹر سائیکل چھین لئے ۔تھانہ خروٹ آباد کے ایریے میں میر گل اپنے موٹر سائیکل سے محروم ہوگئے ۔تھانہ نیو کچلاک سے فیض الحق کی موٹر سائیکل چوری ہوگئی ۔تھانہ کچلاک میں سلمان خان نامی شخص سے موٹر سائیکل اور موبائل چھین لئے گئے ۔عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے مختلف علاقوں میں شہریوں کو اسلحے کے زور پر روکا اور لوٹ مار کی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے اور وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان پولیس فوری اور مؤثر کارروائی کرے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔ پولیس ڈکیتوں اور چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بجائے عام عوام کے خلاف کارروائی میں مصروف عمل ہے ۔پولیس کے اعلیٰ آفیسران کو چاہئے کہ کوئٹہ کو ایک محفوظ شہر بنائے تاکہ تاجر اور کاروباری حضرات خود کو محفوظ محسوس کرے لیکن معاملہ اس کے برعکس نظر آرہا ہے ۔ ایرانی تیل کا کاروبار کرنے والوں کو پولیس حراساں کرتی ہے اور ان کے خلاف زبردستی مقدمات کا اندراج کررہی ہے لیکن جن کے خلاف کارروائی عمل میں لانا چاہئے ان کے خلاف خاموشی عوام کے سمجھ سے بالا تر ہے ۔کاروباری حضرات میں انتہائی ذہنی دباؤ محسوس کررہے ہیں ۔
