بلوچستان اسمبلی اراکین کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

حاجی ولی محمد نورزئی 98 فیصد حاضری کے ساتھ سرفہرست نواب ثناء اللہ زہری کی حاضری صفر وزیراعلیٰ 78 جبکہ اپوزیشن لیڈر کی 75 فیصد شرکت


(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی حاضری سے متعلق سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حاجی ولی محمد نورزئی اور پیپلز پارٹی کے حاجی علی مدد جتک کی بالترتیب 98 اور 96 فیصد اجلاسوں میں حاضری رہی، جبکہ وزیراعلیٰ 78 فیصد اور اپوزیشن لیڈر 75 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے؛ بلوچستان اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال فروری 2025 تا فروری 2026 تک کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی سیکرٹری حاجی ولی محمد نورزئی نے سب سے زیادہ 98 فیصد حاضری کے ساتھ 50 اجلاسوں میں شرکت کی، اسی طرح صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے 96 فیصد حاضری کے ساتھ 49 اجلاسوں میں شرکت کی جبکہ پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی اور مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے 90 فیصد حاضری کے ساتھ 46،46 اجلاسوں میں شرکت کی؛ اس کے علاوہ اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق خان اچکزئی کی حاضری 88 فیصد رہی، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے 51 میں سے 40 اجلاسوں میں شرکت کی جس سے ان کی حاضری 78 فیصد رہی، پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی نے 43 فیصد، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ نے 73 فیصد، نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حاضری 49 فیصد رہی جبکہ جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر نواب اسلم رئیسانی نے صرف دو اجلاسوں میں شرکت کی جس سے ان کی حاضری محض 4 فیصد رہی؛ رپورٹ کے مطابق رکن فضل قادر مندوخیل، ملک نعیم خان بازئی اور کلثوم نیاز بلوچ کی حاضری 86 فیصد، صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو کی 84 فیصد، سلمیٰ بی بی کاکڑ 82 فیصد، نور محمد دمڑ، خیر جان بلوچ اور بخت محمد کاکڑ کی حاضری 80 فیصد ریکارڈ کی گئی؛ رپورٹ میں چند ارکان کی حاضری انتہائی کم رہی جن میں نواب ثناء اللہ خان زہری کسی بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے، سابق رکن میر علی حسن زہری اور میر ظفر اللہ خان زہری کی حاضری 8 فیصد، نواب جنگیز خان مری کی 12 فیصد جبکہ محمد خان طور اتمانخیل کی حاضری 14 فیصد ریکارڈ کی گئی؛ دیگر ارکان میں صمد خان گورگیج اور سید ظفر علی آغا 78 فیصد، عبدالمجید بادینی 76 فیصد، میر زابد علی ریکی، میر لیاقت علی لہڑی، اصغر علی ترین اور صفیہ فضل الرحمن 75 فیصد، شاہدہ رؤف اور راحیلہ حمید خان درانی 73 فیصد، میر اصغر رند 71 فیصد، ڈاکٹر نواز کبزئی، میر ظہور احمد بلیدی اور انجینئر زمرک خان اچکزئی 69 فیصد، زرک خان مندوخیل 67 فیصد، فرح عظیم شاہ 65 فیصد، ہادیہ نواز اور برکت علی رند 63 فیصد، مینا مجید بلوچ اور میر شعیب نوشیروانی 61 فیصد، ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ، کوہیار خان ڈومکی اور میر رحمت صالح بلوچ 59 فیصد، مولوی نوراللہ اور سردار عبدالرحمن کھیتران 57 فیصد، غلام دستگیر بادینی 55 فیصد، محمد زرین خان مگسی 53 فیصد، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی 51 فیصد، عبید اللہ گورگیج اور اشوک کمار 49 فیصد، روی پہوجا 43 فیصد، فیصل خان جمالی 39 فیصد، نوابزادہ طارق خان مگسی اور میر جہانزیب مینگل 37 فیصد، اسفند یار خان کاکڑ اور میراسد اللہ بلوچ 33 فیصد، پرنس احمد عمر احمدزئی 31 فیصد اور شہناز عمرانی 29 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے جبکہ ایک نشست (بی پی 36) خالی ہونے کے باعث اس پر کوئی حاضری ریکارڈ نہیں کی گئی۔

WhatsApp
Get Alert