ژوب میر علی خیل روڈ کی لاگت میں 2.5 ارب کا اضافہ، سپیرا راغہ روڈ پر متضاد بیانات، بلوچستان ہائی کورٹ کا سائٹ کے دورے اور رپورٹ جمع کرانے کا حکم

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان ہائی کورٹ میں مختلف سڑک منصوبوں سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی جس کے دوران ژوب۔میر علی خیل روڈ منصوبے میں تبدیلی سے لاگت میں تقریباً 2.5 ارب روپے اضافے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ منصوبوں میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی تاہم تکنیکی و مالی مسائل کے باعث فی الحال حتمی حکم جاری کرنے سے گریز کیا گیا، جبکہ دوسری جانب سپیرا راغہ روڈ منصوبے کی پیش رفت پر عدالت میں متضاد بیانات سامنے آئے جہاں ایس ڈی او نے دعویٰ کیا کہ منصوبے پر 95 فیصد ارتھ ورک مکمل ہو چکا ہے ۔
مگر وکیل حمید اللہ ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ سائٹ پر کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آئی؛ اس صورتحال پر عدالت نے حکام اور وکلاء پر مشتمل ایک مشترکہ وفد کو سائٹ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے جو 26 مارچ تک دورہ مکمل کر کے 28 مارچ تک تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا، بلوچستان ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
