روس اور چین کی انٹیلی جنس سے ایران کے ٹارگٹڈ حملے، عالمی سطح پر نئی بحث

تہران (قدرت روزنامہ) حالیہ کشیدگی کے دوران یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ ایران کو روس اور چین کی جانب سے فراہم کردہ حکمتِ عملی اور انٹیلی جنس کی مدد حاصل رہی، جس کے باعث اس کے حملے زیادہ مؤثر اور درست ثابت ہوئے۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی جنگ میں سب سے اہم عنصر درست انٹیلی جنس ہوتی ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر دشمن کے ریڈار سے بچتے ہوئے درست اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق Russia نے ایران کو امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے اہم عسکری حکمتِ عملی فراہم کی، جبکہ China کی جانب سے تکنیکی انٹیلی جنس تعاون کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چینی سیٹلائٹس خطے میں سرگرمیوں کی نگرانی کر کے اہم معلومات فراہم کر رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفاعی مبصرین کے مطابق ایران نے اپنے حملوں میں جدید ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ درست معلومات کا استعمال کیا۔ ایران کے Shahed-136 ڈرون کو کم لاگت لیکن مؤثر ہتھیار قرار دیا جاتا ہے، جو طویل فاصلے تک پرواز کر کے مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ کارروائیوں میں فوجی اور تکنیکی تنصیبات کو ہدف بنانے کی حکمت عملی اپنائی تاکہ کم سے کم ہتھیار استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ فوجی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
دوسری جانب عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں Russia کو معاشی فائدہ ہونے کی بات کی جا رہی ہے کیونکہ بلند قیمتوں پر توانائی کی برآمدات روسی معیشت کو تقویت دے سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان سفارتی اور عسکری تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں اور مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
