بلوچستان کو تھانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، حکومت خاموش تماشائی نہ بنے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے صوبے میں پیٹرول و ڈیزل کی شدید قلت اور سرحدی راستوں کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے صوبے بھر میں ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو “سری نگر” بنا کر ایک تھانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں ہر طرف چیک پوسٹوں کی بھر مار، خوف اور کرفیو جیسا سماں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت (بارڈر ٹریڈ) کی بندش سے ہزاروں خاندانوں کا چولہا ٹھنڈا ہو چکا ہے اور غریب مزدور و چھوٹے تاجر فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت محض “اوپر” سے آنے والے احکامات کی جی حضوری کرنے کے بجائے عوام کے دکھ درد کو محسوس کرے، کیونکہ صرف طاقتور طبقات کی خوشنودی سے غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جائے، غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں اور بارڈر ٹریڈ بحال کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر عوامی ردعمل میں اضافے سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert