خلیجی ممالک کا غذائی تحفظ ہمارا فرض، 40 اشیائے خورونوش کی برآمد کی منظوری، بندرگاہوں کے ٹیرف میں 60 فیصد کمی کا اعلان

عالمی سپلائی لائن متاثر، علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کا بڑا قدم، عید کی چھٹیوں میں بھی بندرگاہیں فعال رہیں گی، غفلت برتنے والے افسران کا کڑا احتساب ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موجودہ علاقائی صورتحال اور عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے تعطل کے پیش نظر خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مشکل گھڑی میں برادر خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے خلیجی ممالک کو برآمدات کے حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ایک خصوصی کمیٹی نے 40 اہم غذائی اشیاء کی منظوری دی ہے جن میں چاول، خوردنی تیل، چینی، گوشت، پولٹری، ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔ ان اشیاء کی برآمد کے لیے ہوائی اور بحری اوپن روٹس کا استعمال کیا جائے گا جبکہ سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی ادائیگی نہیں لی جائے گی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملکی ضروریات کو متاثر کیے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیاء کی برآمد تیز کی جائے اور اس مقصد کے لیے برآمد کنندگان کا مکمل ڈیٹا بیس تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتی سطح پر فیصلہ سازی میں تاخیر کرنے والے افسران کی جواب دہی یقینی بنائی جائے گی۔
بندرگاہوں اور فلائٹ آپریشنز کے لیے انقلابی اقدامات

اجلاس میں ملک کی میری ٹائم اور ایوی ایشن صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لیے جامع لائحہء عمل تیار کرنے کی ہدایت کی۔ مزید برآں، بندرگاہوں پر نقل و حمل کے نرخوں میں 60 فیصد تک بڑی کمی کر دی گئی ہے جبکہ کراچی اور بن قاسم بندرگاہیں عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی 24 گھنٹے فعال رہیں گی۔ کسٹمز قوانین میں ترمیم کے ذریعے آف ڈاک ٹرمینلز پر ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی اجازت بھی دے دی گئی ہے تاکہ بندرگاہوں کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، محمد اورنگزیب اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے خام تیل لانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کرنے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسکس کو مزید فعال بنانے کی بھی ہدایت جاری کیں۔

WhatsApp
Get Alert