ڈیجیٹل دور میں “ولی” کا پہرہ، حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور کی نئی رشتہ ایپ نے انٹرنیٹ پر آگ لگا دی: کیا یہ شادی کا حل ہے یا پرانی روایت کا نیا روپ؟ صارفین کی شدید تنقید اور بحث، مکمل حقائق
حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور کی 'میرج فار لائف' ایپ پر بحث، 'ولی فیچر' نے سوشل میڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اسلامی اصولوں کے مطابق رشتہ، اے آئی سسٹم اور والدین کی نگرانی، شوبز کی مقبول جوڑی کا نیا قدم تنقید کی زد میں، کیا یہ صرف ایک نیا بزنس ماڈل ہے؟

اسلام آباد (ڈیلی قدرت نیوز) پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑی حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی رشتہ ایپ “میرج فار لائف” (Marriage For Life) نے منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث اور تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جہاں مداح اس اقدام کو سراہ رہے ہیں، وہیں ناقدین اسے روایتی طریقوں کو ڈیجیٹل لبادے میں فروخت کرنے کا ایک نیا کاروباری حربہ قرار دے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، حمزہ علی عباسی اور ان کی اہلیہ نے جیون ساتھی کی تلاش کے عمل کو سہل اور اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے اس پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔ اس ایپ کی سب سے منفرد اور متنازع خصوصیت اس کا “ولی فیچر” ہے، جس کے ذریعے والدین یا سرپرست اپنے بچوں کی گفتگو کو مانیٹر کر سکیں گے۔ مزید برآں، ایک جدید اے آئی (AI) سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے جو کسی بھی نامناسب لفظ کی نشاندہی کر کے فوری طور پر والدین کو الرٹ بھیجے گا۔
حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ایپ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہے جس میں شادی سے پہلے اور بعد کی کونسلنگ (Counseling) بھی شامل ہے۔ دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے زمینی سطح پر ٹیمیں بائیو ڈیٹا کی تصدیق کریں گی اور مختلف ممالک میں اس کے باقاعدہ دفاتر بھی قائم کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر تنقید اور عوامی ردعمل
اس اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ایپ کے “ولی” فیچر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ جدید دور میں پرانی روایات کو ڈیجیٹل شکل دینے کی کوشش ہے، جہاں لڑکا اور لڑکی بڑوں کے پہرے میں بات کرتے تھے۔ کئی صارفین نے اسے ایک “کاروباری ماڈل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شوبز شخصیات اب رشتوں جیسے حساس معاملے سے بھی پیسہ کمانا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب حمزہ اور نیمل کا مؤقف ہے کہ یہ خیال انہیں اس وقت آیا جب لوگ ان سے رشتوں کے لیے مشورے مانگتے تھے۔ ان کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو اخلاقی اور مذہبی حدود کے اندر رہتے ہوئے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ایپ پاکستانی معاشرے میں کتنی مقبولیت حاصل کرتی ہے اور کیا یہ واقعی رشتوں کے روایتی مسائل کو حل کر پائے گی یا نہیں۔
