توانائی بچت کی آڑ میں تعلیمی اداروں کی بندش تعلیم دشمن اور مستقبل کش اقدام ہے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
یہ فیصلہ صوبے کو جہالت اور پسماندگی میں دھکیلنے کے سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، فوری واپس لیا جائے اساتذہ کو حاضر اور طلبہ کو غیر معینہ مدت تک چھٹی دینا نامعقول ہے، ظالمانہ فیصلے کے خلاف سڑکوں سے اسمبلیوں تک احتجاج کریں گے: صوبائی سیکرٹریٹ کا بیان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں توانائی کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کی بندش کے حکومتی فیصلے کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ، تعلیم دشمن، عوام دشمن اور مستقبل کش اقدام قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی بچت کی آڑ میں تعلیمی اداروں کو بند کرنا درحقیقت علم و شعور کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو محض ایک وقتی یا انتظامی اقدام قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے پشتون بلوچ صوبے کو شعوری طور پر جہالت، پسماندگی اور محرومی کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ اساتذہ سکولوں میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں، جبکہ دوسری جانب طلبہ و طالبات کو غیر معینہ مدت کے لیے چھٹی دی گئی ہے، جو کہ انتہائی نامعقول فیصلہ ہے۔ وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ توانائی اساتذہ کے آنے سے ضائع ہوتی ہے، جبکہ طلبہ تو اکثریت میں متعلقہ گاؤں یا قریبی علاقوں سے سکولوں میں آتے ہیں، جس سے کوئی خاص توانائی ضائع نہیں ہوتی۔ دوسری جانب اکثر پرائمری سکولوں میں ایک ٹیچر بیک وقت تین تین کلاسوں کو پڑھاتا ہے، اور اس طرح نصاب کو مکمل کرنا اساتذہ کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک طرف حکومت تعلیمی ترقی، اصلاحات اور بہتری کے کھوکھلے دعوے کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب عملی طور پر تعلیمی اداروں کی بندش جیسے اقدامات کے ذریعے نئی نسل کے روشن مستقبل پر کاری ضرب لگائی جا رہی ہے۔
بیان میں حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں اور فوری طور پر اس تعلیم دشمن فیصلے کو واپس لیا جائے، بصورت دیگر اس کے نہایت سنگین اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ بیان میں والدین، اساتذہ، طلبہ، سول سوسائٹی اور باشعور عوام سے پُرزور اپیل کی گئی کہ وہ اس کھلی ناانصافی کے خلاف متحد ہو کر میدان میں آئیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز بلند کریں۔
