مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں تیز، اسلام آباد میں 4 فریقی وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس اختتام پذیر

اسحاق ڈار کی سعودی، ترک اور مصری ہم منصبوں سے ملاقاتیں، ایرانی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ، پاکستان کی امریکی و اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت
اسلام آباد (ڈیلی قدرت نیوز) پاکستان کی میزبانی میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر غور کے لیے بلایا گیا چار ملکی (پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر) وزرائے خارجہ کا اہم ترین مشاورتی اجلاس مکمل ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگ بندی کے امکانات اور تنازعات کو طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی مشترکہ کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، چار فریقی مشترکہ اجلاس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں برادرانہ تعلقات کی توثیق کے ساتھ ساتھ ایران سمیت مجموعی علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ تمام رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے قیام، کشیدگی میں کمی اور علاقائی ہم آہنگی و تعاون بڑھانے کے لیے ڈائیلاگ اور سفارت کاری پر بھرپور زور دیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، اس اہم ترین مشاورتی بیٹھک سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بھی خصوصی رابطہ کیا۔ دورانِ گفتگو دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، رابطے کے دوران پاکستان نے ایران کے خلاف ہونے والی حالیہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور ایرانی ہم منصب کو جنگ رکوانے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے اس چار ملکی اجلاس کے مقاصد اور امن کوششوں سے بھی باقاعدہ آگاہ کیا۔
