10 مئی کو استاد عبدالرحیم مندوخیل کی برسی پر بڑا جلسہ ہوگا، معدنی وسائل پر مرکز کا قبضہ اور مائنز ایکٹ کی منظوری آئین کی خلاف ورزی ہے: نصراللہ خان زیرے
موجودہ حکومت عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے، حکمران مستعفی ہو کر نئے شفاف انتخابات کروائیں: ضلعی کمیٹی کا مطالبہ کوئٹہ میں صفائی، ٹریفک اور امن و امان کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش، تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے کے لیے دعوتی مہم کا فیصلہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ): پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، غیور پشتون افغان ملت کی نمائندہ قومی سیاسی جماعت کی حیثیت سے، اپنے قومی حقوق کے حصول اور حقِ خود اختیاری کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید نظریاتی اور تنظیمی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے اپنے غیور عوام کو غلامی، پسماندگی اور بدحالی سے نجات دلانے کے لیے شب و روز محنت کر رہی ہے۔ پارٹی کے تمام ضلعی یونٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ابتدائی یونٹس کے کانفرنسز (انتخابی اجلاسوں) کی تیاری کے لیے بھرپور محنت کریں اور 10 مئی کو کوئٹہ میں پارٹی کے مرحوم رہنما استاد عبدالرحیم مندوخیل کی نویں برسی کے موقع پر میٹروپولیٹن کارپوریشن میں منعقد ہونے والے جلسہ عام کی کامیابی کے لیے بھرپور تیاری کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ علی وزیر کو مسلسل گرفتار رکھنا آئین، قانون اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے، اور پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فی الفور علی وزیر کو رہا کرے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا نیپ ضلع کوئٹہ کی ضلعی کمیٹی کے ماہانہ اجلاس سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی سینئر نائب صدر اللہ نور خان، صوبائی آفس سیکرٹری ندا سنگر، رحمت اللہ صابر اور دیگر رہنماؤں نے کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی اور ضلعی کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ کارکردگی کے حوالے سے علاقائی یونٹس نے تفصیلی رپورٹس پیش کیں، جن کا جائزہ لیا گیا، اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ان فیصلوں کے تحت تمام ابتدائی یونٹس کے انتخابی کانفرنسز منعقد کیے جائیں گے۔ اسی طرح ہر محلے میں دعوتی مہم چلائی جائے گی اور عوام تک پارٹی کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا۔

مزید یہ کہ ابتدائی یونٹس کے انتخابی کانفرنسز میں گزشتہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی جائے گی اور نئے ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اسی طرح 10 مئی کو پارٹی کے عظیم رہنما استاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی نویں برسی کے مناسبت سے کوئٹہ کے میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ بیان میں علاقائی یونٹس کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس جلسہ عام میں بھرپور انداز میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ علی وزیر کی مسلسل گرفتاری آئین، قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہیں سندھ ہائی کورٹ سے تمام مقدمات میں بری کیا جا چکا ہے، مگر اس کے باوجود انہیں گرفتار رکھا گیا ہے، جس کی پارٹی بھرپور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اجلاس میں ملک میں جاری دائمی مارشل لاء جیسی صورتحال، اور اس کے ذریعے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر حکومتوں کے قیام کو سختی سے مسترد کیا گیا اور اسے عوام کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔اجلاس میں کہا گیا کہ پشتونخوا وطن میں دہشت گردی کو مسلط کیا گیا ہے، جو ریاست کی پچاس سالہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ مزید کہا گیا کہ پشتونخوا وطن کے معدنی وسائل (مائنز اینڈ منرلز) پر قبضہ اور صوبائی اسمبلی سے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی منظوری آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ آئین کے مطابق معدنیات پر صوبے کا مکمل حق ہے، مگر اس قانون کے ذریعے اسے مرکز کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں کوئٹہ شہر میں صفائی کی ابتر صورتحال، ٹریفک کی مسلسل بندش، تعلیمی اور صحت کے مسائل، اور بالخصوص امن و امان کی خراب صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، لہٰذا حکومت فوری طور پر مستعفی ہو کر ملک میں نئے انتخابات کروائے۔
