بلوچستان کے سرکاری اسکولوں میں درسی کتابوں کی شدید قلت، تعلیمی داخلہ مہم متاثر، والدین اور شہری تنظیموں کا تحقیقات اور فوری فراہمی کا مطالبہ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) حکومتِ بلوچستان کی جانب سے شروع کی گئی تعلیمی داخلہ مہم درے کی درے رہ گئی ہے اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے سرکاری اسکول درسی کتابوں کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے کتابوں کی ترسیل میں مبینہ کرپشن اور گھپلوں کی وجہ سے تعلیمی سال کا آغاز ہونے کے باوجود طلبہ تاحال کتابوں سے محروم ہیں۔ ذرائع کے مطابق، کوئٹہ کے تاریخی گورنمنٹ سنڈیمن ہائی اسکول سمیت صوبے کے بیشتر تعلیمی اداروں میں کتابیں نہیں پہنچ سکی ہیں، جس کے باعث طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے اور اساتذہ و والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔والدین نے انکشاف کیا ہے کہ ایک طرف تو کتابیں دستیاب نہیں ہیں اور دوسری طرف کئی اسکولوں میں مفت کتابوں کی مد میں والدین سے ایک ہزار روپے تک طلب کیے جا رہے ہیں، جو کہ حکومتی دعوں کی کھلی نفی ہے۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین کو ‘آئندہ ہفتے’ کا لالی پاپ دیا جا رہا ہے، تاہم عملی طور پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ درسی کتب کی عدم فراہمی اور ٹیکسٹ بک بورڈ کی نااہلی نے غریب طلبہ کا مستقبل دا پر لگا دیا ہے۔متاثرہ والدین اور شہری تنظیموں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی اور کور کمانڈر بلوچستان سے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کی جائیں اور تعلیمی داخلہ مہم کو صرف اشتہارات تک محدود رکھنے کے بجائے اسکولوں میں کتابوں کی فوری اور بلا معاوضہ فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ سکے۔

WhatsApp
Get Alert