بلوچستان اسمبلی اجلاس کورم کے باعث ملتوی، 4 مسوداتِ قوانین منظور، اسمبلی عمارت میں توسیع پر غور


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس مسلسل دوسری بار کورم پورا نہ ہونے کی نذر ہوگیا، اپوزیشن کا قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کو دفاتر الاٹ نہ ہونے پر احتجاج، وزیراعلیٰ کی جانب سے پیر کو اسمبلی کی صورتحال سے متعلق پیش رفت کرنے کا اعلان ،صوبائی اسمبلی نے4مسودات قوانین بھی منظور کر لیے ۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے بی اے پی کے رکن آغا عمراحمدزئی نے کہا کہ سریاب کے نوجوان فوڈ رائڈر حزب اللہ کو قتل کیا گیا ہے ، وہ غریب خاندان کافرد ہے اس کے خاندان کی مدد کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں حالیہ دنوں میں قتل کے تین واقعات ہوئے ہیں سریاب میں امن وامان پرتوجہ دینے کے لیے پولیس کو پابند اور گشت بڑھائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اختر آباد میں گیس پائپ لائن متاثر ہونے کے بعد اسکی مرمت ہوگئی مگر تاحال سریاب میں گیس پریشر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قلات بیٹ پر موٹر وے پولیس کی گشت دوبارہ فعال کی جائے ۔اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہر ی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو دفاتر الاٹ کیوں نہیں ہورہے ہیں ،جس پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے جواب دیا کہ جس بلڈنگ میں دفاتر بنے ہیں وہ بلڈنگ ابھی تک ہم ہینڈ اوور نہیں ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی عمارت کے حوالے سے دو رپورٹ طلب کی تھی ، یہ عمارت 20 سے 30 سال مزید چل سکتی ہے اس عمارت میں وزیر اعلی، اپوزیشن لیڈر کے چیمبر کے دفاتر چھوٹے ہیں ، یہ غلط ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی وجہ سے اسے گرا یا جا رہا ہے ،یہ اسمبلی فیصلہ کرلے کیا اس عمارت کو گرا کر نئی عمارت بنانی ہے یا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک آرکیٹیکٹ بلایا ہے وہ اس عمارت میں مزید توسیع کے بارے میں بتائے گا اس حوالے سے پیر کو اجلاس کر کے فیصلہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر مسئلے پر اتفاق رائے سے چلنا چاہتے ہیں۔جس پر اسپیکر نے کہا کہ ہم ایک ہفتہ انتظار کرسکتے ہیں ۔ صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ میرے خیال سے اس عمارت کو گرا کر نئی عمارت بنانی چاہیے ۔ بی این پی عوامی کے رکن میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ جس عمارت میں اچھے فیصلے ہوں وہ عمارت خوبصورت ہوتی ہے اس عمارت میں توسیع ہوسکتی ہے ۔اجلاس میں بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی (ترمیمی )،دیوانی ضابطہ کار ( ترمیمی )،بلوچستان پبلک سروس کمیشن ( ترمیمی)،بلوچستان پروبیشن اینڈ پیرول کے قوانین سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس کو ایوان میں پیش کیا گیا جس کے بعد مسودات قوانین کو منظور کرلیا گیا ۔اجلاس میں مولانا ہدایت الرحمن نے گوادر میں بااثر شخصیات کو زمینوں کی الاٹ منٹ سے متعلق توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ ریونیو کی توجہ ایک مسئلے کی جانب مبذول کروائیں گے کہ گوادر میں بااثرشخصیات کو ہزاروں ایکڑ زمینیں الاٹ کی گئی ہیں لیکن اس کے برعکس ضلع گوادر کے رہائشی جو عرصہ دراز سے وہاں آباد ہیں کو تاحال مالکانہ حقوق نہیں دئیے گئے ہیں جسکی وجہ سے ان میں شدید بے چینی اور احساس محرومی پائی جارہی ہے لہذا حکومت نے ضلع گوادر کے رہائشی لوگوں کو مالکانہ حقوق دینے کی بابت اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں تفصیل فراہم کی جائے ۔ توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ رکن اسمبلی واضح کریں کہ وہ کن شخصیات اور موضعوں کی بات کر رہے ہیں اگر وہ نشاہدہی کرتے ہیں تو حکومت جواب دے سکتی ہے اب تک بخشی کالونی ، کلانچ سمیت دیگر علاقوں سے متعلق سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کردی گئی ہے مالکانہ حقوق پر فیصلہ کابینہ کرتی ہے ۔ جس پر مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ جب سے زمینیں قیتمی ہوئی ہیں ہزاروں ایکڑ زمین ریکارڈ پر بااثر افراد کو دی گئی ہے 2سال سے غریبوں کو انکا حق نہیں دلوا سکا ہوں ۔ ابھی اجلاس جاری تھا کہ کورم کی نشاہدہی کردی گئی جس کے بعد کورم پورا نہ ہونے پر اسمبلی کا اجلاس 5مئی تک ملتو ی کردیا گیا ۔

WhatsApp
Get Alert