ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ حملے میں خاتون خودکش حملہ آور استعمال ہونے کا انکشاف، سہولتکار افغانستان فرار


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ڈی آئی جی سی ٹی ڈی حمزہ شفقات اور معاون برائے محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ 30 نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ پر ہونے والے حملے میں ایک خاتون خودکش بمبار کو استعمال کیا گیا۔
پریس کانفرنس کے مطابق خاتون رحیمہ بی بی، جو دالبندین سے تعلق رکھتی ہیں، نے بیان دیا کہ ان کی شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی تھی۔ ان کے مطابق شوہر کبھی کبھار ان کا فون استعمال کرتا تھا۔
رحیمہ بی بی نے بتایا کہ 11 نومبر 2025 کو ان کا شوہر ایک نامعلوم خاتون کو گھر لایا، جبکہ اگلی رات 12 نومبر کو اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ بعد ازاں 30 نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کے بعد شوہر نے انہیں بتایا کہ حملہ آور وہی خاتون تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شوہر نے انہیں اپنے بھائی کے ساتھ افغانستان جانے کا کہا، تاہم وہ گرفتار ہو گئیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی حمزہ شفقات نے بتایا کہ رحیمہ بی بی اس وقت حکومتی تحویل میں ہیں۔
اس موقع پر بابر یوسفزئی نے کہا کہ دہشتگرد عناصر خواتین اور بچوں کو استعمال کر رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں سے نکل کر شہری آبادی میں رشتوں اور سماجی روابط کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور دہشتگرد کارروائیوں کے بعد وہاں جا کر پناہ لیتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert