اسمارٹ لاک ڈاﺅن اور بدترین لوڈشیڈنگ نے کاروبار تباہ کردیا، تاجروں کا معاشی قتل بند کیا جائے، کاشف حیدری


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ ایک جانب اسمارٹ لاک ڈاﺅن کے نام پر رات 8 بجے کاروباری مراکز اور دکانیں بند کرا دی جاتی ہیں جبکہ دوسری جانب لاک ڈاﺅن سے قبل ہی بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے تاجروں اور عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور تاجر برادری کو شدید معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ یہ بات انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کے آغاز کے ساتھ ہی پورا دن بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، شام کے اوقات میں بھی کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، جس سے تاجروں کو کاروبار کیلئے دستیاب محدود وقت بھی میسر نہیں آرہا، پہلے بجلی بند کی جاتی ہے اور اس کے بعد اسمارٹ لاک ڈاﺅن کے تحت رات 8 بجے دکانیں بند کرا دی جاتی ہیں، جس سے کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں اور بجلی سے منسلک کاروبار مکمل طور پر متاثر ہوچکا ہے جبکہ اسمارٹ لاک ڈاﺅن کے باعث اوقات کار محدود ہونے سے تاجروں کو دوہرا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تاجر کرایے، بجلی کے بھاری بلوں، ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہوچکے ہیں جبکہ کاروبار کا بیشتر وقت لوڈشیڈنگ کی نذر ہو رہا ہے اور جو تھوڑا وقت بچتا ہے، اس میں لاک ڈاﺅن نافذ کر دیا جاتا ہے جس سے تاجر برادری شدید اضطراب کا شکار ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسمارٹ لاک ڈاﺅن کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کر کے کاروباری اوقات میں بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے بصورت دیگر تاجر برادری سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگی اور عوام و تاجروں کو احتجاج کیلئے مجبور نہ کیا جائے۔

WhatsApp
Get Alert