تابش ہاشمی کے بیان پر جویریہ سعود کا سخت ردعمل، ریٹنگ اور رمضان ٹرانسمیشن پر تنازع میں شدت


لاہور (قدرت روزنامہ)تابش ہاشمی کے بیان پر جویریہ سعود نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “پورا سال یہ شخص ڈبل میننگ مذاق کر کے ریٹنگ لیتا ہے، اور اگر ایک مہینے کے لیے کسی اور کو زیادہ ویورشپ مل جائے تو یہ برداشت نہیں کرپاتا۔ سنار کی ایک، لوہار کی ایک… آپ اپنا کام کرتے رہیں، آپ کے پاس تو پورا سال ہے۔”
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب معروف میزبان تابش ہاشمی کے ایک بیان نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ کامیاب شو کے میزبان، جو اپنے منفرد مزاح اور بے باک انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، حال ہی میں ایک انٹرویو میں مارننگ شوز اور رمضان ٹرانسمیشنز کے کچھ وائرل کلپس پر تبصرہ کر رہے تھے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ کئی بار یہ کلپس انہیں محض میمز لگتے ہیں، جبکہ بعض اوقات وہ انہیں غیر معیاری محسوس ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے جعلی کالز کا سہارا لینا مناسب نہیں، خاص طور پر اس وقت جب میزبان خود بھی اچھی خاصی معاوضہ لیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقابلے کی فضا اپنی جگہ، مگر اس حد تک جانا درست نہیں لگتا۔
تابش ہاشمی کے اس بیان کو بعض حلقوں میں تنقید کے طور پر لیا گیا، خاص طور پر ان افراد کی جانب سے جن پر ماضی میں ایسے الزامات لگ چکے ہیں۔ انہی میں سے ایک نام جویریہ سعود کا بھی سامنے آیا، جن کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی رمضان ٹرانسمیشن میں ریٹنگ بڑھانے کے لیے اس طرح کے طریقے اپنائے۔
جویریہ سعود نے اس بیان پر خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ سوشل میڈیا پر کھل کر ردعمل دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں نہ صرف تابش ہاشمی کے انداز پر تنقید کی بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ وہ ان کے تبصرے سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا لہجہ سخت تھا اور انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ شاید یہ تنقید ذاتی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔
یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دو رائے دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ تابش ہاشمی کی بات کو درست قرار دے رہے ہیں اور ٹی وی انڈسٹری میں مواد کے معیار پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ دیگر صارفین جویریہ سعود کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اسے غیر ضروری تنقید قرار دے رہے ہیں۔
یہ تنازع ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر رہا ہے کہ ریٹنگ کی دوڑ میں تفریحی پروگرام کس حد تک جاسکتے ہیں، اور کیا ناظرین اب بھی معیاری مواد کو ترجیح دیتے ہیں یا محض وائرل ہونے والی چیزیں ہی کامیابی کا معیار بن چکی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert