ایران نے اقوام متحدہ سے بحیرہ عمان میں امریکی کارروائی کی مذمت کا مطالبہ کر دیا

لندن (قدرت روزنامہ) ایران نے اقوام متحدہ سے بحیرہ عمان میں امریکی کارروائی کی مذمت کا مطالبہ کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ امریکی کارروائی پر سلامتی کونسل واضح اور دو ٹوک مؤقف اپنائے۔
گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر جمال فارس الرویعی کو لکھے گئے ایک خط میں مندوب سعید ایروانی نے خبردار کیا کہ امریکی کارروائیوں کے تحت جہاز ’توسکا‘ کے خلاف اقدام اپنی نوعیت میں قزاقی کے مترادف ہے اور یہ علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ایرانی مشن کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ امریکا نے 19 اپریل کو بحیرہ عمان میں کارروائی کر کے ایرانی پرچم بردار جہاز پر قبضہ کیا، یہ کارروائی بین الاقوامی قانون اور سیز فائر کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی جہاز پر قبضہ کھلی جارحیت اوربحری قزاقی ہے، امریکی اقدام نےعالمی نیوی گیشن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس غیر قانونی امریکی اقدام کو دوٹوک انداز میں مسترد اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اور اقوامِ متحدہ، بالخصوص سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری، مضبوط اور اصولی مؤقف اختیار کریں، اس جارحیت کی واضح مذمت کریں، ذمہ داروں کا مکمل احتساب یقینی بنائیں، اور امریکا سے مطالبہ کریں کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر جہاز، اس کے عملے، ان کے اہلِ خانہ اور اس واقعے سے متاثر تمام افراد کو رہا کرے۔
