ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی 9ویں برسی 10 مئی کو کوئٹہ میں شایان شان طریقے سے منائی جائے گی، عظیم رہنما کی فکری، سیاسی اور قومی خدمات ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی، نصراللہ خان زیرے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ پارٹی کے مرحوم رہنما، عظیم سیاسی مفکر، پشتون قومی تحریک کے ممتاز نظریہ ساز اور پارٹی کی نظریاتی اساس رکھنے والی شخصیت ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی 9ویں برسی 10 مئی بروز اتوار کو کوئٹہ میں ایک عظیم الشان جلسۂ عام کی صورت میں منائی جائے گی۔ اس سلسلے میں منعقد ہونے والے جلسۂ عام سے پارٹی کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنما خطاب کریں گے، جبکہ مرحوم رہنما کی قومی، سیاسی، فکری اور تاریخی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔
بیان میں پارٹی کے تمام علاقائی یونٹس، ابتدائی یونٹس، ذیلی تنظیموں، کارکنوں اور ہمدردوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ برسی کے جلسۂ عام کی بھرپور تیاری کریں اور اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ پارٹی قیادت نے کہا کہ یہ محض ایک یادگاری تقریب نہیں بلکہ نظریاتی وابستگی، قومی شعور اور سیاسی عزم کی تجدید کا دن ہوگا۔
نصراللہ خان زیرے نے ان خیالات کا اظہار پارٹی کے حاضر صوبائی ایگزیکٹو و ضلع کوئٹہ ایگزیکٹیو کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر و مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان چیئرمین، مرکزی سیکریٹری محترمہ صاحبہ بڑیچ، صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی، صوبائی سیکریٹری خواتین و انسانی حقوق سابقہ ایم پی اے محترمہ عارفہ صدیق اور صوبائی کابینہ کے اراکین، ضلعی عہدیداران اور ایگزیکٹو ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبائی کمیٹی کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ مختلف انتظامی، تنظیمی اور رابطہ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاکہ پارٹی سرگرمیوں کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 3 مئی کو ہندو باغ میں روایتی گل سرخ میلہ بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تحصیل مسلم باغ کی پارٹی تنظیم کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمام تیاریاں بروقت مکمل کرے اور عوامی سطح پر اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور رابطہ مہم چلائے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل پشتون قومی تحریک کے ایک بلند پایہ نظریاتی رہنما، دانشور، مدبر سیاستدان اور عوامی رہنما تھے۔ انہوں نے افغان غیور پشتون ملت کی قومی نجات کی تحریک کو جدید، سائنسی اور فکری خطوط پر استوار کرنے کے لیے اپنی غیر معمولی علمی بصیرت، سیاسی شعور اور نظریاتی پختگی کے ذریعے ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے پشتون قومی تحریک کے سیاسی کارکنوں کی تربیت، نظریاتی رہنمائی اور تنظیمی استحکام کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کیں، جن کے اثرات آج بھی واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مرحوم عبدالرحیم خان مندوخیل نے آزاد افغانستان کی خودمختاری، آزادی، استقلال اور افغانستان میں بیرونی مداخلت، مسلح جارحیت اور جنگی سازشوں کے خاتمے کے لیے بھی تاریخی کردار ادا کیا۔ وہ ہمیشہ خطے میں امن، برابری، باہمی احترام اور اقوام کے حقِ خودارادیت کے داعی رہے۔ اسی طرح ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام، آمریت کے خاتمے، مارشل لائی حکومتوں کے خلاف جدوجہد اور جمہوری قوتوں کے اتحاد میں بھی ان کا نمایاں کردار نہایت اہم رہا۔ وہ ایم آر ڈی، پشتون رہبر کمیٹی، پونم، اے پی ڈی ایم، پشتون اولس قومی جرگوں سمیت مختلف جمہوری اتحادوں میں صفِ اول کے رہنما کے طور پر سرگرم رہے اور ہمیشہ آئین، پارلیمانی بالادستی اور عوامی حاکمیت کے اصولوں کی حمایت کی۔
اجلاس میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ عبدالرحیم خان مندوخیل صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر دانشور بھی تھے۔ انہوں نے پشتون تاریخ، قومی سوال، انگریزی استعمار، افغانستان، افغان و افغانستان، بحرِ ہند اور خلیج فارس میں امریکی سامراج کا کردار، علاقائی سیاست اور جمہوری تحریکوں پر مستند علمی مواد چھوڑا۔ مختلف ادبی، سیاسی اور فکری سیمیناروں میں ان کے مقالے، خطابات اور تحریریں آج بھی پشتون قومی تحریک کے لیے قیمتی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی جدوجہد، فکر، سیاسی بصیرت اور اصولی سیاست ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ وہ ایک نظریاتی، اصول پسند، دیانتدار اور قومی رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے عظیم رہنماؤں کی فکری میراث، جمہوری روایات اور قومی جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے عوامی حقوق، قومی برابری، صوبائی خودمختاری، جمہوریت، امن اور ترقی کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
