جے سپر پاور دی گل ساڈے تے آ گئی اے تے صلح ای کرلؤ
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی پوسٹ

لاہور(قدرت روزنامہ)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی کوششوں پر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی ایک پوسٹ سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی کوششوں پر دلچسپ تبصرہ کیا ہے، اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ان کے ویریفائیڈ اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ کی گئی ہے، جس میں خواجہ سعد رفیق نے پنجابی میں لکھا کہ جے سُپر پاور دی گَل ساڈے تے آ گىئی اے تے صلح ای کرلؤ۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ ایران مذاکرات سے کوئی حتمی نتیجہ نہ نکلنے کی ذمہ داری متکبرانہ اور غیر منصفانہ امریکی رویے پر عائد ہوتی ہے، امریکی حکمران اور صیہونی اس جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں، ایران میں رجیم بدلی نہ ان کی مزاحمت ختم ہوئی، امریکہ فاتح نہیں ہے لیکن وہ مذاکرات کی میز پر فاتح کی طرح بیٹھنا چاہتا ہے، ایرانی دانش اور جرات اسے نہیں مانے گی۔
خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرتے کرتے پہلے غزہ اور اب ایران کے مسئلوں پر عالمی حمایت اور اپنے اتحادی کھو چکاہے، امریکی پالیسی سازوں نے خود ہی سپر پاور کو تنہائی میں دھکیل کر چین اور روس کے حصے کا کام کردیاہے، خلیجی ممالک اور یورپ کا امریکہ پر سے اعتماد اٹھ چکاہے، امریکی ایرانیوں سے من مرضی کے مطالبات نہیں منوا سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ طویل ہوئی تو اس کا سیاسی معاشی اور معاشرتی بوجھ امریکہ ہی کو اٹھانا ہوگا، پاکستان سمیت امن ڈیل کیلئے کوشش کرنیوالوں نے اپنی بساط سے زیادہ کوشش کی ہے، اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے، آبنائے ہرُمز کی امریکی ناکہ بندی مزید جاری رہی تو امریکی نیول فورسز کسی نئی جنگ مں الجھ سکتی ہیں، امریکہ اور ایران کی ڈیل صرف ون ون پوزیشن ہی پر پو سکتی ہے بصورت دیگر جنگ طویل ہو کر پورے خطے میں پھیل سکتی ہے جس کا نقصان تنہا ایران کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
