خیبرپختونخواہ حکومت نے پنجاب سے 64 ارب 62 کروڑ روپے بقایا جات مانگ لیے

پشاور (قدرت روزنامہ)خیبرپختونخواہ حکومت نے پنجاب سے بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخواہ حکومت نے مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت سے 64 ارب 62 کروڑ روپے بقایا جات مانگ لیے ہیں، اس مقصد کے لیے خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو خط بھی ارسال کر دیئے ہیں۔
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ مری واٹر بورڈ کسی معاہدے اور معاوضے کے بغیر روزانہ دریائے گلیات سے 5 لاکھ گیلن پانی نکال کر غیر مجاز طور پر استعمال میں لا رہا ہے، پنجاب مری کے لیے خیبرپختونخواہ کے علاقہ گلیات سے روزانہ 5 ملین گیلن پانی استعمال کرتا ہے اس کا معاوضہ ادا کیا جائے کیوں کہ گلیات میں پانی کا بحران ہے، وزارت بین الصوبائی رابطہ دونوں صوبوں کی حکومت کے درمیان اس سلسلے میں کردار ادا کرے۔
خیبرپختونخواہ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ وفاق نے پنجاب کے منصوبوں کے لئے اربوں روپے کے فنڈز فراہم کیے، پی ایس ڈی پی میں خیبرپختونخواہ کے لیے محض 55 کروڑ روپے رکھے گئے، وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے فنڈز روک رکھے ہیں، وفاق نے وعدے کے مطابق ضم اضلاع کے لیے ہر سال 100 ارب روہے فراہم کرنے تھے، بدقسمتی سے وفاق نے سات سال کے دوران ضم اضلاع کے لیے صرف 168 ارب روپے جاری کیے، 532 ارب روپے تاحال وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں غیر اعلانیہ اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، صوبے کے دیہی علاقوں میں روزانہ 20 سے 22 گھنٹے تک بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، مقامی ضروریات سے زیادہ پیداوار کے باوجود خیبرپختونخواہ میں بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے، عوام نے بھاری اکثریت سے عمران خان کو مینڈیٹ دیا، جس کی سزا لوڈشیڈنگ کی صورت میں دی جا رہی ہے، خیبرپختونخواہ میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی سپلائی بھی بند کی گئی ہیں۔
شفیع جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سی این جی سپلائی کی بندش کا سخت نوٹس لیا ہے، سی این جی اسٹیشنز کی بندش سے غریب اور ڈرائیور طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے، وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث صنعت سمیت ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہو چکا ہے، موجودہ فارم 47 حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں سے کارخانے بند اور بیرونی سرمایہ کاری رک گئی ہے، پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ قرضے موجودہ حکومت کے دور میں لیے گئے، وفاقی حکومت کی جانب سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم تشویشناک ہے۔
