عمران خان کے بغیر سیاست کا تصور ناممکن، انہیں مائنس کرنے کی سوچ بیوقوفی ہے، تمام ادارے برباد ہو چکے، محمود خان اچکزئی

ہر سویلین ادارے میں وردی والا بیٹھا ہے، عوام کو مزید مجبور نہ کیا جائے کہ وہ بندوقیں اٹھائیں،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ


لاہور(قدرت روزنامہ)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادارے برباد ہو چکے ہیں اور کوئی ادارہ کام نہیں کر رہا۔ عاصم منیر اور شہباز شریف بڑے آدمی ہوں گے لیکن پاکستان سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین بالادست اور پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو، تمام فیصلے آئین و قانون کے مطابق ہوں۔ آئین کا راستہ روکنا پاکستان کی بنیادوں کو ہلانے کے مترداف ہے۔ ناانصافیوں سے ملک نہیں چلایا جاسکتا، یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ یہاں ہر سویلین ادارے میں ایک وردی والا بیٹھا ہوا ہے۔ اپنے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں میری بہنیں ہیں، ‘یلو جرنلزم’ والے پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ محمود مراعات لے رہا ہے، میں پوچھتا ہوں کون سی مراعات؟
محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ پاکستان میں عمران خان کے بغیر سیاست اور پی ٹی آئی کا تصور ناممکن ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان کو سائیڈ لائن کر دیا جائے گا، تو یہ اس کی بیوقوفی ہے۔ عمران خان پاکستان کی سیاست کا واحد محور اور سب سے پاپولر لیڈر ہے، ہم آخری دم تک اس کے ساتھ وفا نبھائیں گے۔ انہوں نے مزدوروں اور کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی رہائی میں ہی تمہاری آزادی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو مارا گیا تو وہ قلندر بن گیا اور آج اس کی نسلیں حکمرانی کر رہی ہیں، خدارا یہ کام عمران خان کے ساتھ نہ کیا جائے، اس ملک پر رحم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو قید خانہ بنانا بند کیا جائے۔ غلط خارجہ پالیسی، ’آئینی مارشل لاء‘ اور وسائل پر ڈاکے نے ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ 1940 کی قرارداد کے وفاقی یونٹس کو چھیڑنا ریاست کی بنیادوں پر وار ہے۔ ہم پرامن سیاسی جدوجہد اور جلسے جلوسوں پر یقین رکھتے ہیں، گالی گلوچ ہمارا شیوہ نہیں۔ انہوں نے ریاستی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ جب بھی عوام اور افواج میں لڑائیاں ہوئی ہیں، افواج ہار جاتی ہیں، اپنے عوام کو مجبور مت کرو کہ وہ بندوقیں اٹھائیں۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور تجارتی بندشوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے بارڈر پر تجارت ہو رہی ہے لیکن پشتون اور بلوچ وطن میں پاک افغان اور پاک ایران بارڈر پر روزگار کے ذرائع بند کر کے پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ اگر عوام کے وسائل پر قبضہ کیا گیا، اجتماع کا حق نہ دیا گیا اور پارٹیاں بننے نہ دی گئیں تو ملک خطرناک خانہ جنگی کی طرف جائے گا۔ ہم کسی کو یہ عیاشی نہیں کرنے دیں گے، ہم خانہ جنگی بھی نہیں کریں گے لیکن عوام کی طاقت سے دوسروں کا ہاتھ ضرور روکیں گے۔

WhatsApp
Get Alert