بھارت کی نامناسب ویڈیوز اور ذومعنی گانے بنانے والی انڈسٹری بے نقاب، تشویشناک حقائق سامنے آگئے

ممبئی (قدرت روزنامہ)بھارت کی بھوجپوری فلم انڈسٹری میں گزشتہ کئی برسوں سے بے حیائی، معنی خیز گانوں اور غیر اخلاقی مواد میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کئی فلموں اور گانوں میں استعمال ہونے والی زبان اور مناظر اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ انہیں خاندانی ماحول میں دیکھنا یا سننا مشکل ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو رپورٹ کے مطابق بھوجپوری انڈسٹری کے گانوں کے نام اور ان کے بول اکثر ایسے ہوتے ہیں جو ناظرین کو غیر آرام دہ کر دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہی مواد سوشل میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر ٹرینڈ کرتا ہے، جسے لاکھوں لوگ دیکھتے اور پسند کرتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بھوجپوری انڈسٹری میں کئی بڑے اسٹارز ایسے ہیں جن کے نام عوام میں بے حد مقبول ہیں، مگر ان کے ساتھ منسلک بعض واقعات اور رویے تنازع کا سبب بنتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین فنکاراؤں کے ساتھ نامناسب رویوں اور ہراسانی کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن پر اکثر واضح احتساب یا سخت کارروائی نہیں ہوتی۔

دوسری جانب اس فلم انڈسٹری کے اسٹارز کو بڑی تعداد میں مداحوں کی حمایت حاصل رہتی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انہیں غیر معمولی عقیدت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے اور حال ہی میں پون سنگھ نامی بھوجپوری ہیرو نے جس طرح ساتھی فنکارہ کو نامناسب انداز میں عوام کے سامنے چھوا، اور اس پر بھوجپوری عوام کا ردِ عمل بتاتا ہے کہ فلم انڈسٹری اس قسم کا مواد آخر کیوں بناتی ہے۔

انڈسٹری کے ساتھ ساتھ عوام کے اس موجودہ رجحان کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایک وقت میں یہی بھوجپوری سنیما سماجی مسائل، ثقافتی اقدار اور معیاری کہانیوں کے لیے جانا جاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ تجارتی دباؤ، آسان منافع اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ رسائی نے مواد کی نوعیت بدل دی۔ اب زیادہ تر توجہ ایسے گانوں اور فلموں پر ہے جو فوری مقبولیت حاصل کر سکیں، چاہے ان کا معیار یا اخلاقی پہلو کچھ بھی ہو۔

مزید یہ کہ انڈسٹری میں ریگولیشن کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں نہ آمدنی کے شفاف اعداد و شمار موجود ہیں اور نہ ہی مواد کے معیار کو کنٹرول کرنے کا مؤثر نظام۔ نتیجتاً تخلیقی معیار کمزور ہوتا جا رہا ہے اور مواد زیادہ تر سستی مقبولیت کے گرد گھوم رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert