سیاسی بے یقینی کے موجودہ حالات میں قومی حقوق، جمہوری بالادستی اور محکوم اقوام کی جدوجہد مزید منظم کی جائے گی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین، پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنما، ممتاز پارلیمنٹرین، نامور مؤرخ اور مدبر سیاستدان ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی 9ویں برسی نہایت عقیدت، احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منائی جائے گی۔ اس سلسلے میں کوئٹہ کے لیاقت پارک میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان جلسۂ عام منعقد ہوگا، جس سے پارٹی کے چیئرمین و رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ سمیت پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین خطاب کریں گے۔
جلسے میں مرحوم رہنما عبدالرحیم خان مندوخیل کے قومی سیاسی افکار، نظریات، جدوجہد اور تعلیمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا اور ان کے متعین کردہ قومی اہداف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل طالب علمی کے زمانے ہی سے پشتون افغان قومی تحریک کے سرگرم اور متحرک کارکن بن گئے تھے۔
انہوں نے ایوبی آمریت کی جانب سے تاریخی نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کے بعد جنوبی پشتونخوا خصوصاً کوئٹہ ڈویژن میں پارٹی کو دوبارہ منظم اور فعال کرنے میں تاریخی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ بعدازاں جب تاریخی نیشنل عوامی پارٹی قومی اور طبقاتی سوالات پر تقسیم ہوئی اور بعض پشتون اکابرین نے تاریخی، لسانی اور ثقافتی بنیادوں پر متحدہ صوبہ پشتونخوا کے قیام کے قومی ہدف سے انحراف کیا، تو عبدالرحیم خان مندوخیل نے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی قائم کردہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی میں مرکزی رہنما کی حیثیت سے نہایت اہم اور تاریخی کردار ادا کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عبدالرحیم خان مندوخیل ایک ایسے مدبر، نظریاتی اور دور اندیش قومی رہنما تھے جنہوں نے قومی اور وطنی بنیادوں پر ایک ایسی قومی و جمہوری پارٹی کے قیام کا تصور پیش کیا، جو قومی اہداف کے حصول کے لیے آزادانہ سیاسی عمل اور نظریاتی خودمختاری کی حامل ہو۔ انہوں نے پشتون افغان قومی تحریک کو ایک متحد قومی ایجنڈے پر منظم کرنے اور تمام پشتون افغان عوام کی قومی نجات کے لیے ایک نمائندہ قومی سیاسی قوت کی تشکیل کو اولین قومی فریضہ قرار دیا۔ بیان کے مطابق مرحوم رہنما ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ تمام پشتون جمہوری قوتوں کو ایک قومی پلیٹ فارم پر متحد ہونا چاہیے، جبکہ ملک کی تمام محکوم اقوام کو بھی ایک مشترکہ قومی محاذ قائم کرنا ہوگا تاکہ جمہوریت، قومی برابری، سماجی انصاف اور آئینی حقوق کی جدوجہد کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے پشتون رہبر کمیٹی، پونم جیسے محکوم اقوام کے اتحاد اور ایم آر ڈی جیسے ملک گیر جمہوری محاذوں میں نہایت اہم، فعال اور تاریخی کردار ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ عبدالرحیم خان مندوخیل نے پشتون افغان قومی تحریک کو علمی، فکری اور نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
انہوں نے پشتون افغان ملت اور تاریخی افغانستان کے حقیقی دشمنوں اور حقیقی دوستوں کا واضح اور درست تعین کیا۔ ایک عظیم مؤرخ، دانشور اور سیاسی مفکر کی حیثیت سے انہوں نے پشتون افغان قوم کی تاریخ، جغرافیہ، ثقافت اور قومی حقوق کے حوالے سے گراں قدر علمی و تحقیقی خدمات سرانجام دیں اور تاریخی حقائق کو قلمبند کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی سیاسی رہنما کی حیثیت سے عبدالرحیم خان مندوخیل کی بنیادی تعلیمات یہ تھیں کہ محکوم پشتونخوا وطن کی قومی آزادی، جمہوریت، سماجی انصاف، امن، ترقی اور خوشحالی کی قومی تحریک اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک افغانستان کی ملی استقلال، ملی حاکمیت، آزادی، سلامتی اور خودمختاری کا مکمل دفاع نہ کیا جائے۔ وہ پشتون افغان عوام کے درمیان اتحاد، شعور، سیاسی بیداری اور قومی یکجہتی کے مضبوط داعی تھے اور ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ قومی بقا اور ترقی کا راستہ منظم سیاسی جدوجہد، فکری پختگی اور اجتماعی قومی شعور سے ہو کر گزرتا ہے۔
بیان کے آخر میں پارٹی نے تمام کارکنوں، عوام، سیاسی کارکنان، طلبہ، دانشوروں اور وطن دوست حلقوں سے اپیل کی کہ وہ عبدالرحیم خان مندوخیل کی 9ویں برسی کے جلسۂ عام میں بھرپور شرکت کریں اور اس عظیم قومی رہنما کی جدوجہد، قربانیوں اور نظریات کو نئی نسل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عبدالرحیم خان مندوخیل کے قومی، جمہوری اور ترقی پسند افکار کی روشنی میں پشتون افغان ملت کے قومی حقوق، قومی وحدت، جمہوری بالادستی اور محکوم اقوام کے حقوق کی جدوجہد کو ہر سطح پر مزید منظم، فعال اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔
