یارو تہرے قتل کے ملزمان کی عدم گرفتاری حکومتی دعوؤں اور انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلاء برادری اور قبائلی عمائدین پر مشتمل اولسی کمیٹی یارو کے زیر اہتمام ایک بڑے احتجاجی مظاہرہ

پشین (ڈیلی قدرت کوئٹہ) یارو میں تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات میں ملوث مبینہ ملزمان کی عدم گرفتاری اور ضلع پشین خصوصاً علاقے میں امن و امان کی مسلسل ابتر صورتحال کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلاء برادری اور قبائلی عمائدین پر مشتمل اولسی کمیٹی یارو کے زیر اہتمام ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مقتولین کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پشین کے ضلعی صدر عمر خان ترین، یارو اولسی کمیٹی کے چیئرمین عبد الستار کاکڑ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن پشین کے سابق صدر عبدالمناف بادیزئی ایڈوکیٹ، ڈاکٹر اعظم خان، کاکا شفیع ترین، محمد رضا شیدا، محمد سلیم یوسفزئی، شمس الدین جمال سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں یارو میں پیش آنے والے انسانیت سوز اور بہیمانہ تہرے قتل کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک سانحے کو پیش آئے ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات اور حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود واقعے میں ملوث ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔مقررین نے کہا کہ اس اندوہناک واقعے میں معصوم اور بے گناہ افراد، ماسٹر نسیم خان یوسفزئی، ان کی کمسن صاحبزادی اور ان کے بھتیجے شہریار خان یوسفزئی کو بے دردی سے شہید کیا گیا، جس نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون معاشرہ ہمیشہ اعلیٰ انسانی اور قبائلی روایات کا امین رہا ہے اور اس قسم کے سفاکانہ جرائم کسی صورت برداشت نہیں کئے جا سکتے۔ مقررین نے کہا کہ پشتون روایات میں ایسے گھناؤنے جرائم کی سخت ترین سزا موجود ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائے۔مقررین نے کہا کہ 27 مارچ کو کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور ڈی آئی جی پولیس نے یارو اکر دھرنے کے شرکاء کے ساتھ مذاکرات کے دوران 48 گھنٹوں کے اندر ملزمان کی گرفتاری کا وعدہ کیا تھا، مگر افسوس کہ آج ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود اس وعدے پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار وعدوں کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونا عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔مقررین نے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ یارو تہرے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، علاقے میں امن و امان کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کئے جائیں اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ملزمان کی گرفتاری میں مزید تاخیر کی گئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور اس حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا۔احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر قاتلوں کی گرفتاری، امن و امان کی بحالی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
