اگر آئی ایم ایف نے بجٹ بنانا ہے اور ہم نے سر پھینک کر منظور ہی کرنا ہے تو پھر وزیراعظم اور اُن کی معاشی ٹیم کی ضرورت کیاہے؟ مصطفیٰ نواز کھوکھر


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے آئی ایم ایف نے آنے والے بجٹ میں ٹیکس ہدف میں 163 فیصد اضافے کی شرط رکھ دی ہے ۔ مجموعی ہدف 17ہزار اَرب مقرر کیا گیا ہے ، کاروباری طبقہ ہو ، تنخواہ دار ، مزدور ہو یا کِسان، کوئی طبقہ ایسا نہیں جو اَب مزید ٹیکس دے سکے۔
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا شہباز حکومت کا یہ پانچواں بجٹ ہے۔ اگر اِن میں کوئی اہلیت ہوتی تو اَب تک سامنے نہ آ چُکی ہوتی؟ اور اگر آئی ایم ایف نے ہی بجٹ بنانا ہے اور ہم نے سر پھینک کر منظور ہی کرنا ہے تو پھر وزیراعظم اور اُن کی معاشی ٹیم کی ضرورت؟ ہمیں سنجیدگی سے یہ سوچنا ہو گا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں مزید رہنا بھی چاہئے یا نہیں؟ معاشی ماہرین بھی اب اس پر متفق ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ اِس انتہا درجے کی ٹیکسیشن سے معاشی ترقی ناممکن ہے۔ پہلے ہی ٹیکس بیس چھوٹی ہے ، مزید بوجھ اُٹھانے کے قابل نہیں اور مزید ٹیکسوں کے ساتھ ہم ایک”نیگیٹو لوپ “ میں پھنس چُکے ہیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں یہ اُن کے ساتھ زیادتی ہے۔ تبھی تو لوگ ٹیکس کے نظام میں شامل نہیں ہوتے کہ ایک بار آ گئے تو رگڑے پر رگڑا۔ اِن حالات میں آئی ایم ایف کو خُدا حافظ کہیں، اپنا بجٹ خود بنائیں ، شاہانہ اخراجات کم کریں اور لوگوں کو ریلیف دیں۔

WhatsApp
Get Alert