دبئی سے کراچی کا خفیہ سمگلنگ نیٹ ورک ’کھیپیا‘ ختم
یو اے ای ویزہ پابندیوں نے پاکستانی اپر مڈل کلاس کے ’دبئی برانڈڈ‘ شاہانہ لائف سٹائل کا کباڑہ کردیا

کراچی(قدرت روزنامہ)متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان بدلے ہوئے ویزہ قوانین اور فضائی ٹریفک میں اچانک آنے والی کمی نے جہاں سفارتی اور معاشی حلقوں کو متاثر کیا ہے، وہاں پاکستان کے پوش علاقوں میں لگژری اور غیر ملکی اشیاء سپلائی کرنے والے ایک انتہائی خفیہ اور منظم نیٹ ورک کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، اس نیٹ ورک کو ’کھیپیا‘ کہتے ہیں، جو پچھلے کئی سالوں سے پاکستانی اشرافیہ اور اپر مڈل کلاس کی غیر ملکی برانڈز کی طلب پوری کر رہا تھا۔
انگریزی اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ کے معاشی جریدے ‘پرافٹ’ کی رپورٹ کے مطابق اگر آپ پاکستان کے کسی پوش مڈل کلاس یا امیر علاقے میں رہتے ہیں، تو آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ دنیا کے مہنگے ترین برانڈز جن کا پاکستان میں کوئی آفیشل سٹور یا ڈسٹری بیوٹر موجود نہیں ہے، ان کی مصنوعات ہائی سٹریٹ مارکیٹوں میں باآسانی دستیاب ہوتی ہیں، آئی پیڈز، میک بکس، مہنگے فرنچ پرفیومز، ڈیزائنر بیگز، برانڈڈ کاسمیٹکس، سکن کیئر مصنوعات اور غیر ملکی چاکلیٹس تک سب کچھ پاکستان میں مل جاتا ہے۔
حالات اس حد تک بدل چکے تھے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اب اپنے رشتہ داروں سے یہ سننے کو ملتا تھا کہ ’اب باہر سے کچھ لانے کی ضرورت نہیں، پاکستان میں اب سب ملتا ہے‘ لیکن یہ سب کچھ کسی آفیشل امپورٹ کے ذریعے نہیں بلکہ ’کھیپیا‘ نیٹ ورک کے مرہونِ منت تھا، عام زبان میں ’کھیپیا‘ ایک ایسے پیشہ ور مسافر یا سامان بردار کو کہا جاتا ہے جو قانونی مسافر کے روپ میں اپنے سامان کی طے شدہ حد کا فائدہ اٹھا کر کمرشل یا لگژری اشیاء بیرونِ ملک سے پاکستان سمگل کرتا ہے۔
اس نیٹ ورک کی وسعت کا اندازہ ان حیران کن اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2025ء میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس قدر شدید فضائی رابطہ تھا کہ اوسطاً ہر 12 منٹ بعد ایک فلائٹ اڑ رہی تھی، محتاط اندازوں کے مطابق دبئی سے کراچی آنے والی ہر ایک فلائٹ پر کم از کم 8 مسافر باقاعدہ ’کھیپیے‘ ہوتے تھے، جن کا کام صرف دبئی سے سامان اٹھا کر پاکستان کی مارکیٹوں تک پہنچانا تھا، یہ لوگ کسٹم حکام سے بچ کر یا دیگر طریقوں سے کروڑوں روپے مالیت کا امپورٹڈ سامان بغیر کسی بڑی ڈیوٹی کے پاکستان لا کر یہاں کے دکانداروں کو بیچتے تھے، جس سے ان کا کاروبار چمک رہا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نیٹ ورک کی کمر کسی پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے یا کسٹم کی سختی نے نہیں توڑی، بلکہ اس کی وجہ جیو پولیٹیکل اور ویزہ قوانین بنے ہیں، پچھلے چند ماہ کے دوران دو بڑی وجوہات نے اس نیٹ ورک کو مفلوج کردیا، جن میں ایک یو اے ای کی سخت ویزہ پالیسی ہے، متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے پاکستانیوں کے لیے ویزہ کے حصول پر عائد سخت شرائط اور پابندیوں نے ان کھیپیوں کا دبئی آنا جانا انتہائی مشکل بنا دیا ہے، کیوں کہ بار بار وزٹ ویزہ ملنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ دوسری وجہ فضائی ٹریفک میں اچانک کمی ہے، ویزوں کی بندش اور پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے پاکستان اور یو اے ای کے درمیان فضائی ٹریفک اور پروازوں کی تعداد میں اچانک اور نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جب فلائٹس ہی نہیں رہیں، تو کھیپیوں کے لیے سستے ٹکٹ خرید کر مال لانا معاشی طور پر خسارے کا سودا بن گیا، کھیپیا نیٹ ورک کے گھٹنے ٹیکنے کے اثرات اب پاکستانی مارکیٹ اور بالخصوص اپر مڈل کلاس صارفین پر براہِ راست پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ مارکیٹ میں امپورٹڈ کاسمیٹکس، الیکٹرانکس اور سکن کیئر مصنوعات کی کمی ہونا شروع ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے دستیاب سٹاک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، انسٹاگرام اور فیس بک پر دبئی سے سامان منگوا کر بیچنے والے سینکڑوں چھوٹے پاکستانی آن لائن برانڈز اور پیجز کا بزنس ماڈل تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے کیونکہ ان کا سورس آف سپلائی بند ہو چکا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ اب ایک بار پھر پاکستانی خاندانوں نے دبئی، امریکہ اور برطانیہ سے آنے والے اپنے عزیز و اقارب کو مہنگی چاکلیٹس، آئی فونز اور میک بکس لانے کی فرمائشیں بھیجنا شروع کر دی ہیں، کیونکہ مقامی مارکیٹ سے یہ اشیاء غائب ہو رہی ہیں، پاکستان اور یو اے ای کے بدلتے ہوئے تعلقات اور ویزہ بحران نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی لگژری ریٹیل مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ کسی آفیشل معیشت پر نہیں، بلکہ اسی پوشیدہ ’کھیپیا اکانومی‘ پر چل رہا تھا جو اب دم توڑ رہی ہے۔
