پشتون ملت پال جماعتوں کا صوبے میں بدامنی پر اظہار تشویش، مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ
شاہرگ واقعہ، کلی مانگی سے 4 افراد کے اغوا، شاہراہوں پر گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت

پشتون ملت پال جماعتوں کا وسیع تر مشترکہ اجلاس جلد طلب کرنے کا فیصلہ
عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت اور ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے، اجلاس
شاہرگ کے عوام کے جائز مطالبات اور جمہوری تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان
صوبے میں بدامنی، اغوا، بھتہ خوری اور لاقانونیت ناقابل برداشت ہے، پشتون ملت پال جماعتیں
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پشتون ملت پال سیاسی و جمہوری جماعتوں کا ایک اہم اجلاس عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی رہائشگاہ پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری برائے امور نوجوانان رشید خان ناصر، صوبائی سیکریٹری ثقافت حضرت علی اچکزئی اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی آفس سیکریٹری ندا محمد سنگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے ضلع ہرنائی کے شاہرگ میں پانچ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی شہادت اور چار افراد کے زخمی ہونے، ضلع زیارت کے کلی مانگی سے چار افراد کے اغوا، قومی شاہراہوں پر ٹرالروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیے جانے اور صوبے بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی اور لاقانونیت کے واقعات پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا۔

اجلاس نے ضلع زیارت کے کلی مانگی سے اغوا کیے گئے چار افراد کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا۔ شرکاء نے شاہرگ کے عوام کے تمام جائز مطالبات اور ان کی جاری جمہوری تحریک کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حقوق کی جدوجہد کو دبانے کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوں گے اور پشتون ملت پال سیاسی قوتیں شاہرگ کے عوام کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔
اجلاس میں صوبے میں جاری دہشت گردی، بدامنی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، لاقانونیت، انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی جبر سے پیدا ہونے والی اذیت ناک صورتحال کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے مسلسل ناکامی نے عوام کو شدید عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ صوبے کے طول و عرض میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی، اغوا، قتل و غارت، شاہراہوں پر مسلح کارروائیاں اور عوامی املاک کی تباہی اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کے تحفظ کے حوالے سے ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ شرکاء نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بھاری سیکورٹی انتظامات، وسیع اختیارات اور بے پناہ وسائل کے باوجود شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور عوام مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اجلاس نے واضح کیا کہ صوبے میں جاری بدامنی، دہشت گردی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کی سیاسی، انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے، اغوا شدگان کی فوری بازیابی، دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور امن کے قیام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں تمام دہشت گردانہ اور انسانیت سوز واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کی تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں کا ایک وسیع تر مشترکہ اجلاس جلد طلب کیا جائے گا، جس میں موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اور صوبے کو درپیش سیاسی و سیکورٹی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
