ملزمان نے بغیر اجازت جنسی نوعیت کی ویڈیوز حاصل کیں، ہراساں اور دباوٴ ڈالنے کیلئے یہ مواد مجھے اور بہن کو بھیجا گیا

.خاتون سمیرا صدیق نے اپنے واٹس ایپ نمبر سے درخواست گزار کو توہین آمیز اور ہتک آمیز پیغامات بھیجے۔ یہ نمبر مبینہ طور پر انہی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ تحقیقات کے دوران ملزمان کو . موبائل فون جمع کرانے کی ہدایت کی گئی، تاہم سمیرا صدیق نے اپنا فون جمع نہیں کرایا ، ثاقب چدھڑاور ان کی اہلیہ کیخلاف مقدمے کا متن


لاہور(قدرت روزنامہ)اداکارہ مومنہ اقبال نے ثاقب چدھڑ پر مقدمہ درجے کرواتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے بغیر اجازت جنسی نوعیت کی ویڈیوز حاصل کیں، ہراساں اور دباوٴ ڈالنے کیلئے یہ مواد مجھے اور بہن کو بھیجا گیا، تفصیلات کے مطابق مومنہ اقبال ہراسگی کیس میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کیخلاف پیکاایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مقدمہ مومنہ اقبال کی مدعیت میں این سی سی آئی اے میں درج کیا گیا۔
. ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ، اہلیہ اور ساتھیوں نے سائبر ہراسگی، بلیک میل کیا، مقدمے کے متن کے مطابق درخواست گزار کے موبائل فون میں ایک جنسی نوعیت کی ویڈیو موجود پائی گئی، جبکہ الزام ہے کہ خاتون سمیرا صدیق نے اپنے واٹس ایپ نمبر سے درخواست گزار کو توہین آمیز اور ہتک آمیز پیغامات بھیجے۔
یہ نمبر مبینہ طور پر انہی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
تحقیقات کے دوران ملزمان کو 21 مئی 2026 کو موبائل فون جمع کرانے کی ہدایت کی گئی، تاہم سمیرا صدیق نے اپنا فون جمع نہیں کرایا جبکہ ثاقب خان چڈھر نے اپنا فون 3 جون 2026 کو جمع کرایا، جسے قبضے میں لے کر سیل کر دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق فون سے سوشل میڈیا ایپس اور ڈیٹا غائب تھا، جس سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ مواد حذف کیا گیا ہے۔

کال ڈیٹا ریکارڈ اور IMEI تفصیلات سے یہ بھی سامنے آیا کہ زیرِ بحث ڈیوائس اور سمیں مبینہ طور پر ملزم کے زیر استعمال تھیں۔
مزید یہ کہ دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے درخواست گزار کا ذاتی موبائل ڈیٹا غیر قانونی طور پر حاصل کیا اور اسے ہراسانی، بلیک میلنگ اور کردار کشی کے لیے استعمال کیا۔ تحقیقات کے مطابق یہ مواد بغیر اجازت حاصل کر کے متاثرہ شخص اور اس کی بہن کو بھی بھیجا گیا۔ پولیس نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

WhatsApp
Get Alert