لمبی اور صحت مند زندگی کیلئے ہر ہفتے کتنے گھنٹے ورزش کرنا چاہیے؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)جسم مضبوط بنانے والی ورزشیں محض مسلز بنانے میں ہی مدد فراہم نہیں کرتیں بلکہ لمبی زندگی کے حصول میں بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم مضبوط بنانے والی ورزشوں سے ہڈیوں کی مضبوطی اور جسمانی توازن بہتر ہوتا ہے جبکہ جسمانی وزن کو صحت مند رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
30 سال تک جاری رہنے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر ہفتے 90 سے 120 منٹ کی جسم مضبوط بنانے والی ورزشوں کو کرنے سے جلد موت کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
یعنی ہر ہفتے ڈیڑھ سے 2 گھنٹوں کی ورزش مجموعی صحت کو بہتر بنانے اور زندگی کی مدت میں اضافے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں 3 بڑے گروپس کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جو 30 برسوں تک اکٹھا کیا گیا تھا۔
ان میں سے ایک گروپ کا ڈیٹا 1992 سے 2022 تک اکٹھا کیا گیا، دوسرے کا 2002 سے 2021 تک جبکہ تیسرے کا 2003 سے 2021 تک جمع کیا گیا۔
یہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد افراد تھے جن سے ہر 2 سال میں سوالنامے بھروا کر معلوم کیا گیا کہ وہ ہر ہفتے کتنا وقت جسم مضبوط بنانے والی ورزشوں اور ایروبک ورزشیں کرنے میں گزارتے ہیں۔
ایروبک ورزشیں تیز رفتاری سے چہل قدمی، دوڑنے، تیراکی، سیڑھیاں چڑھنے اور سائیکل چلانے جیسی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
ان ورزشوں سے دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جبکہ سانس پھول جاتی ہے، جس سے دل اور نظام تنفس سے جڑی صحت بہتر ہوتی ہے۔
اسی طرح جسم مضبط بنانے والی ورزشیں پش اپس، وزن اٹھانے اور squats وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔
30 سال کے عرصے میں 35 ہزار سے زائد افراد انتقال کرگئے تھے۔
محققین نے دریافت کیا کہ ہر ہفتے 90 سے 119 منٹ کی جسم مضبوط بنانے والی ورزشوں سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر ہفتے 90 سے 120 منٹ تک ورزش کرنے سے دل کی شریانوں کے امراض سے موت کا خطرہ 19 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح اعصابی امراض سے موت کا خطرہ 27 فیصد اور کینسر سے موت کا خطرہ 9 سے 12 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے تو وجہ کا تعین نہیں ہوسکا اور نتائج کسی حد تک محدود ہیں۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کی ورزشوں سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔
اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہیں کہ جسم مضبوط بنانے والی ورزشوں سے بلڈ پریشر اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے جبکہ خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے، ورم گھٹ جاتا ہے اور دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
اس طرح میٹابولک صحت کو فائدہ ہوتا ہے، انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے جبکہ ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
ہڈیوں کی کثافت بھی بہتر ہوتی ہے جبکہ ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
دماغی صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے جبکہ نیند کا معیار بہتر ہو جاتا ہے۔
