مسیحاؤں کا معاشی قتل: مکران، لورالائی اور جھالاوان میڈیکل کالجز کے ڈاکٹرز ایک سال سے تنخواہوں سے محروم
محکمہ صحت کی مجرمانہ غفلت: کیبنٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے، ڈاکٹرز کا شدید احتجاج اور ہڑتال کا انتباہ

تربت (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیچ نے مکران میڈیکل کالج تربت، لورالائی میڈیکل کالج اور جھالاوان میڈیکل کالج کے ڈاکٹرز اور اساتذہ کی جون 2024 سے بند تنخواہوں کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔پی ایم اے کیچ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ میڈیکل کالجز میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز اور تدریسی عملے کی تنخواہیں گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے بند ہیں، جو محکمہ صحت بلوچستان کی ناقص منصوبہ بندی، انتظامی کمزوری اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل کا واضح ثبوت ہے۔ ایک طرف حکومت صوبے میں صحت اور طبی تعلیم کے شعبے کی بہتری کے دعوے کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب انہی اداروں کے ڈاکٹرز اور اساتذہ بنیادی مالی حقوق سے محروم ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ مسلسل تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث متاثرہ ڈاکٹرز اور اساتذہ شدید مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور پیشہ ورانہ بے یقینی کا شکار ہیں۔ متعدد ملازمین گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، رہائشی کرایوں اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے منفی اثرات طبی تعلیم اور صحت کی خدمات پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ صوبائی کابینہ اس مسئلے کے حل اور واجبات کی ادائیگی کے واضح احکامات پہلے ہی جاری کر چکی ہے، تاہم محکمہ صحت بلوچستان تاحال ان فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔ کابینہ کے احکامات پر مسلسل عمل نہ ہونا نہ صرف انتظامی نااہلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ سرکاری ملازمین کے قانونی اور آئینی حقوق کی بھی نفی ہے۔پی ایم اے کیچ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مسئلے کا مستقل حل صرف زیر التواء تنخواہوں کی ادائیگی نہیں بلکہ ان ڈاکٹرز اور اساتذہ کو مستقل بنیادوں پر ریگولرائز کرنا بھی ناگزیر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز اور اساتذہ کو مستقل ملازمت کا تحفظ فراہم کیے بغیر اس نوعیت کے مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اگر ان ملازمین کو مستقل حیثیت دی جائے تو نہ صرف ان کا مستقبل محفوظ ہوگا بلکہ میڈیکل کالجز میں تدریسی اور طبی سرگرمیوں کا تسلسل بھی برقرار رہے گا۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کیچ نے حکومت بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری صحت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس دیرینہ مسئلے کا نوٹس لیں، تمام واجب الادا تنخواہوں کی بلا تاخیر ادائیگی کو یقینی بنائیں اور متاثرہ ڈاکٹرز و اساتذہ کی مستقلی کے لیے عملی اقدامات کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اس سنگین مسئلے کے حل میں مزید تاخیر کی گئی تو متاثرہ ڈاکٹرز اور اساتذہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کے نتیجے میں طبی تعلیمی سرگرمیاں اور صحت کے شعبے سے وابستہ امور متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت بلوچستان اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔پی ایم اے کیچ نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت انسانی ہمدردی، انصاف اور میرٹ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری مداخلت کرے گی تاکہ طبی تعلیم اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور صوبے کے اہم طبی تعلیمی اداروں میں پیدا ہونے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
